بیوہ کے عقد ثانی کے بعد وراثت F20-19-03 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Monday, September 21, 2020

بیوہ کے عقد ثانی کے بعد وراثت F20-19-03

احکام ومسائل، ھفت روزہ اھل حدیث، بیوہ کا عقد ثانی، عقد ثانی کے بعد وراثت، حق وراثت، بیوہ کے عقد ثانی کے بعد وراثت

 

بیوہ کے عقد ثانی کے بعد وراثت

O ایک آدمی فوت ہوا‘ اس کی کوئی اولاد نہیں‘ اس کی بیوہ نے عدت گذارنے کے بعد عقد ثانی کر لیا ہے۔ کیا اسے اب پہلے خاوند کی جائیداد سے حصہ دیا جائے گا؟!

P اللہ تعالیٰ نے مرنے والے کی جائیداد سے حقدار کے حصے خود طے کیے ہیں لہٰذا حقدار کو کسی بھی صورت میں محروم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کسی عورت کا خاوند فوت ہو جائے اور اس کی کوئی اولاد نہ ہو تو اس کی بیوہ کو اس کے ترکہ سے چوتھا حصہ ملتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’ان بیویوں کے لیے تمہارے ترکہ سے چوتھا حصہ ہے اگر تمہاری اولاد نہیں۔‘‘ (النساء: ۱۲)

یہ فتویٰ پڑھیں:          گونگے بہرے کا وراثت میں حصہ

عدت گذارنے کے بعد عقد ثانی کرنا اس کا حق ہے لیکن یہ عقد اسے پہلے خاوند کی جائیداد سے محروم کرنے کا باعث نہیں۔ لہٰذا یہ جائز نہیں کہ اس بیوہ کو اس کے حق وراثت سے محروم کیا جائے۔ چونکہ خاوند لا ولد فوت ہوا ہے لہٰذا وہ اس کے ترکہ سے چوتھے حصہ کی حقدار ہے۔ اسے عدل وانصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے حق وراثت دیا جائے۔ واللہ اعلم!


No comments:

Post a Comment

Pages