استخارہ اور اس کے آداب F20-19-02 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Monday, September 21, 2020

استخارہ اور اس کے آداب F20-19-02

احکام ومسائل، ھفت روزہ اھل حدیث، استخارہ اور اس کے آداب، استخارہ کے احکام

  

استخارہ اور اس کے آداب

O دین اسلام میں استخارہ کی کیا حیثیت ہے؟ اور اس کے کیا آداب ہیں اور کن کاموں کے لیے استخارہ کیا جا سکتا ہے؟ قرآن وحدیث میں استخارہ کرنے کے متعلق کیا ہدایات ہیں؟ اس کے متعلق تفصیل سے آگاہی مطلوب ہے۔

یہ فتویٰ پڑھیں:        سود پر قرض لینا

P آج کا انسان‘ زمین کی ہر چیز کو مسخر کرنے کے لیے کوشاں ہے بلکہ اب تو آسمانوں پر کمندیں ڈالنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ لیکن اپنے مستقبل کے متعلق کچھ کہنے یا کرنے کے متعلق تذبذب کا شکار ہے اور پریشان ہو کر سوچتا ہے کہ میں فلاں کام کروں یا نہ کروں؟ اس میں میرے لیے فائدہ ہو گا یا نقصان؟ اس مقام پر انسان کا علم وتجربہ اور عقل وبصیرت بھی جواب دے جاتی ہے۔ دنیا کے کسی مذہب میں اس کا کوئی حل نہیں۔ دور جاہلیت میں لوگ پرندوں کو ان کے گھونسلوں سے اڑاتے تا کہ اپنے کام کے کرنے یا نہ کرنے کا ان کی جہت اڑان سے فیصلہ کریں یا تیروں کے ذریعے قسمت آزمائی کرتے۔ اسلام نے ایسی تمام رسومات کو ختم کر کے استخارے کے عمل کو مشروع قرار دیا ہے۔ استخارے کے بعد انسان شرح صدر کے ساتھ اپنے آئندہ کے کام کرنے یا چھوڑ دینے کے قابل ہو جاتا ہے۔ چونکہ ہر کام کا انجام اللہ کے پاس ہے اس لیے استخارے کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ سے رابطہ کیا جاتا ہے۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہa فرماتے ہیں کہ ’’جو آدمی اللہ تعالیٰ سے خیر طلب کرے اور مخلوق سے مشورہ کرے پھر اپنے کام میں ثابت قدمی اختیار کرے تو اسے کبھی شرمندگی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔‘‘ (بخاری‘ الدعوات: ۶۳۸۲)

لغوی طور پر استخارہ کا معنی طلب خیر ہے‘ کسی معاملے میں خیر وبھلائی طلب کرنے کو استخارہ کہا جاتا ہے۔ اصطلاحی طور پر دو رکعت پڑھ کر ایک مخصوص دعا استخارہ پڑھی جاتی ہے جو کسی بھی دعاؤں کی کتاب سے دیکھی جا سکتی ہے۔ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے کسی معاملے کی بھلائی اور انجام کار کی بہتری کا سوال کیا جاتا ہے۔ یا پھر دو کاموں میں سے ایک کو اختیار کرنے یا چھوڑ دینے میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جاتی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ استخارہ کرنے سے پہلے اپنے ذہن کو صاف کر لے یعنی خاص رجحانات اور کسی ایک طرف اپنا میلان نہ رکھے۔ درج ذیل کاموں کے متعلق استخارہ نہیں ہوتا:

یہ فتویٰ پڑھیں:         نواقض الاسلام

\       جن امور کو بجا لانا ضروری ہے۔ مثلاً نماز اور روزہ کی بجا آوری کے لیے استخارہ نہیں کیا جاتا۔

\       جن امور پر عمل جائز نہیں۔ مثلاً شراب نوشی‘ جوا وغیرہ ان کے متعلق استخارہ نہیں ہوتا۔

\       جو امور شریعت کی نظر میں انتہائی پسندیدہ  ہیں۔ مثلاً تہجد اور تلاوت قرآن ان کے لیے بھی استخارہ نہ کرے۔

\       وہ امور جن کا تعلق گذشتہ واقعات سے ہے۔ مثلاً چور کو تلاش کرنے کے لیے استخارہ مشروع نہیں۔

استخارے کے آداب درج ذیل ہیں‘ استخارے کے وقت ان کا خیال رکھا جائے:

\       ظاہری اور باطنی طہارت کا اہتمام کیا جائے۔ اپنے کپڑے‘ بدن اور جگہ کو پاک وصاف رکھا جائے۔

\       رزق حلال کا اہتمام بھی ضروری ہے۔ حرام خوری سے استخارہ فائدہ مند نہیں ہو گا۔

\       استخارہ ایک عبادت ہے جو نیت کے بغیر بے سود ہے اور نیت صرف دل سے ہوتی ہے۔

\       استخارہ کرنے والا اگر کسی گناہ کا عادی ہے تو اسے فورا ترک کیا جائے۔

\       استخارہ کرنے والا یقین کامل رکھے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کے لیے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

یہ فتویٰ پڑھیں:        اشارے سے اسلام قبول کرنا

ان ہدایات کو مد نظر رکھتے ہوئے استخارہ کیا جائے‘ امید ہے کہ اسے ضرور فائدہ ہو گا۔


No comments:

Post a Comment

Pages