خود کشی اور ماں کی مامتا F20-19-01 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Monday, September 21, 2020

خود کشی اور ماں کی مامتا F20-19-01

احکام ومسائل، ھفت روزہ اھل حدیث، خودکشی، ماں کی مامتا، والدین

 

خود کشی اور ماں کی مامتا

O میری سترہ سالہ بیٹی صوم وصلوٰۃ کی پابند اور میری انتہائی اطاعت گذار تھی‘ گھر میں میری معمولی سی سخت بات پر اس نے اپنا خاتمہ کر لیا ہے۔ اب مجھے اس کی آخرت کی بہت فکر دامنگیر رہتی ہے۔ میں اس کے لیے کیا کروں کہ اس کی اُخروی زندگی سنور جائے؟!

یہ فتویٰ پڑھیں:          سرپرست کی ولایت کس حد تک ہے؟!

P دنیا کے مصائب وآلام اور پریشانیوں سے تنگ آکر خود کو ہلاک کر لیا خودکشی ہے۔ شریعت کی نظر میں ایسا کرنا ایک سنگین جرم ہے۔ رسول اللہe نے اس کی سنگینی کو بایں الفاظ بیان کیا ہے: ’’جس نے اپنے آپ کو پہاڑ سے گرا کر خودکشی کی وہ جہنم میں ہو گا اور اُس میں خود کو اسی طرح گراتا رہے گا۔ جس نے زہر لے کر خودکشی کی تو وہ جہنم میں ہو گا اور اسی طرح زہر پی کر اپنے آپ کو ختم کرتا رہے گا اور جس نے لوہے کے ہتھیار سے خودکشی کی تو جہنم میں وہی ہتھیار اس کے ہاتھ میں ہو گا اور اسے اپنے پیٹ میں گھونپتا رہے گا اور اپنے آپ کو ختم کرتا رہے گا۔‘‘ (بخاری‘ الطب: ۵۷۷۸)

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس قدر سنگین جرم ہونے کے باوجود انسان خودکشی کیوں کرتا ہے؟ ہمارے رجحان کے مطابق اس کے حسب ذیل اسباب ہیں:

\       والدین کا سخت رویہ: اولاد‘ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑی نعمت ہے اور ذریعہ آزمائش بھی ہے۔ کچھ بچے بہت حساس طبیعت کے حامل ہوتے ہیں‘ وہ والدین کی معمولی سی جھڑک بھی برداشت نہیں کرتے۔ ایسے حالات میں والدین کے لیے بے جا سخت رویے سے بھی وہ جذباتی ہو جاتے ہیں اور خودکشی جیسا انتہائی اقدام کر گذرتے ہیں۔ اس لیے والدین کو اپنے رویے پر نظر ثانی کرنا چاہیے۔

\       محبت میں ناکامی: ہمیں ایک دجالی میڈیا سے پالا پڑا ہے‘ مغربی تہذیب میں ایسے مناظر دکھائے جاتے ہیں کہ کچھ بچے اس ماحول میں پروان چڑھتے ہیں‘ جہاں انہیں عشق ومحبت کا میدان میسر آتا ہے۔ مثلاً کالج ویونیورسٹی کی مخلوط تعلیم وغیرہ‘ پھر ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنی اس ناجائز محبت میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ انجام کار دلبرداشتہ ہو کر اپنا خاتمہ کر لیا جاتا ہے۔ ہمارے موبائل کی دنیا نے ہمارے بچوں کو مغربی ماحول مہیا کر رکھا ہے۔ اس پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

یہ فتویٰ پڑھیں:          تحریری طلاق کی حیثیت

\       کاروباری پریشانی: رزق میں کمی وبیشی اور کاروبار کا اتار چڑھاؤ اللہ کے اختیار میں ہے۔ ہمارا کام خلوص نیت سے محنت کرنا ہے۔ ہماری اس تگ ودو اور حرکت میں برکت اللہ کی طرف سے ہوتی ہے۔ لیکن ہم میں سے کچھ بہت کم ہمت اور کم حوصلہ ہوتے ہیں۔ وہ صبر وشکر کی بجائے دل برداشت ہو جاتے ہیں۔ بعض دفعہ ہماری ناتجربہ کاری کی وجہ سے گھریلو اخراجات زیادہ اور آمدن کم ہوتی ہے اس لیے قرضہ کا سہارا لیا جاتا ہے۔ پھر قرض خواہ تنگ کرتا ہے اور گھریلو حالات بھی ناگفتہ بہ ہوتے ہیں۔ ایسے حالات میں بھی انسان خودکشی کا سہارا لیتا ہے۔ حالانکہ اس اقدام سے پریشانی ختم نہیں ہوتی بلکہ اس میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ بہرحال کوئی پریشانی ہی خودکشی پر آمادہ کرتی ہے۔ گھر کے معمولی جھگڑے‘ ناجائز محبت میں ناکامی یا کاروبار کی پریشانی کی وجہ سے انسان چھت سے لٹک جاتا ہے یا بازار سے زہریلی گولیاں کھا لیتا ہے یا تیز رفتار ریل سے ٹکرا جاتا ہے۔ جبکہ شریعت کا حکم ہے کہ ایسے حالات میں صبر سے کام لیا جائے اور استقامت کے ساتھ پریشانیوں کو برداشت کیا جائے۔ خودکشی کر کے انسان دنیا کی مصیبت اور پریشانی سے تو آزاد ہو جاتا ہے لیکن اُخروی سزائیں اس کا ہمیشہ کے لیے مقدر بن جاتی ہیں۔ شریعت اسلامیہ میں ایسے شخص کی دنیوی سزا یہ ہے کہ اہل علم اور اثر ورسوخ رکھنے والے حضرات اس کی نماز جنازہ نہ پڑھیں تا کہ لوگ اس اقدام سے باز رہیں۔ چونکہ وہ کلمہ گو انسان ہے اگرچہ اس نے کبیرہ گناہ کا ارتکاب کیا ہے لیکن وہ اپنے اس اقدام سے دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوا‘ اس لیے عام لوگوں کو اس کا جنازہ پڑھنے کی اجازت ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ گھبرا کر کبھی ایسا اقدام نہ کریں جو دنیا میں ہماری رسوائی اور آخرت میں گرفتاری کا باعث ہو۔

صورت مسئولہ میں ایک ماں اپنی مامتا کے ہاتھوں مجبور ہو کر پوچھتی ہے کہ اب اسے کیا کرنا چاہیے تا کہ بچی کی آخرت سنور جائے؟ اس سلسلہ میں اسے درج ذیل کاموں کا اہتمام کرنا چاہیے:

یہ فتویٰ پڑھیں:          ماسک پہن کر نماز پڑھنا

\       والدین کو چاہیے کہ وہ گھر میں اسلامی ماحول کو ترویج دیں اور نماز پنجگانہ کی پابندی کریں۔ ہر نماز کے بعد بچی کے لیے دعائے مغفرت کریں۔ امید ہے کہ والدین کے کثرت استغفار سے اللہ تعالیٰ اس بچی پر اپنا خاص فضل وکرم فرمائیں گے۔

\       بچی کی طرف سے خوب صدقہ وخیرات کیا جائے۔ غربا ومساکین کے ساتھ مستقل بنیادوں پر تعاون کیا جائے۔ بلکہ صدقہ جاریہ کے طور پر بچی کی طرف سے پانی وغیرہ کا بندوبست کر دیا جائے تا کہ غرباء ومساکین‘ عام لوگ اور آنے والے مسافر حضرات اس سے فائدہ حاصل کریں۔ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنا فضل وکرم کرتے ہوئے اسے معاف کر دیں گے۔ واللہ المستعان!


No comments:

Post a Comment

Pages