سود پر قرض لینا F20-18-02 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Tuesday, September 15, 2020

سود پر قرض لینا F20-18-02

احکام ومسائل، ھفت روزہ اھل حدیث، سود، سود پر قرض، قرض

 

سود پر قرض لینا

O ایک آدمی نے زیادہ شرح سود پر کسی سے قرض لیا‘ اب اس کا سود بہت زیادہ ہو گیا ہے‘ اب کیا وہ بنک سے کم شرح سود پر قرض لے کر اپنا قرض اتار سکتا ہے؟ کیونکہ قرض اتنا زیادہ ہے کہ وہ کسی صورت میں اسے نہیں اتار سکتا۔

یہ فتویٰ پڑھیں:         کرنسی کا نصاب

P سود پر قرض لینا ایک سنگین جرم ہے۔ قرآن کریم نے اس کا سخت نوٹس بایں الفاظ لیا ہے: ’’اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اگر تم واقعی مومن ہو تو جو سود باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو‘ اور تم نے اگر ایسا نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔‘‘ (البقرہ: ۲۷۷-۲۷۸)

صورت مسئولہ میں زیادہ شرح سود پر لیا گیا قرض کم شرح سود پر قرض لے کر اسے اتارنے کے متعلق سوال کیا گیا ہے۔ یہ تو ایسا ہے کہ گندگی کو صاف کرنے کے لیے پیشاب کو استعمال کیا جائے۔ اس سے تو نجاست میں مزید اضافہ ہو گا۔ قرض کو اتارنے کے لیے ایسا راستہ اختیار کیا جائے جو شرعی طور پر جائز اور حلال ہو۔ ایک حرام چیز کا دفاع دوسری حرام چیز سے نہیں ہونا چاہیے۔ قرآن کریم نے اس سلسلہ میں ایک ضابطہ بیان کیا ہے: ’’بے شک نیکیاں ہی برائیوں کو ختم کر سکتی ہیں۔‘‘ (ھود: ۱۱۴)

یہ فتویٰ پڑھیں:       صاع کا وزن اور اس کا حجم

اس بناء پر سائل کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرے اور قرض اتارنے کے لیے کوئی جائز راستہ اختیار کرے‘ شرعی طور پر اس امر کی اجازت نہیں کہ وہ زیادہ شرح سود پر لیا گیا قرض اتارنے کے لیے کم شرح سود پر قرض لے۔ اس سے تو وہ مزید تنگی میں پھنس جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس قسم کی آزمائش سے تمام مسلمانوں کو دور رکھے۔

 

No comments:

Post a Comment

Pages