نواقض الاسلام F20-18-01 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Tuesday, September 15, 2020

نواقض الاسلام F20-18-01

 

ھفت روزہ اھل حدیث، احکام ومسائل، نواقض الاسلام، العقائد، عقیدۂ توحید

 

نواقض الاسلام

O نواقض اسلام کیا ہوتے ہیں؟ کیا واقعی ان کے ارتکاب سے ایک مسلمان دین اسلام سے خارج ہو جاتا ہے؟ قرآن وحدیث میں ان کی کیا تفصیل ہے؟ براہ کرم ان سے آگاہ فرمائیں۔

یہ فتویٰ پڑھیں:        گونگے بہرے کا وراثت میں حصہ

P لغوی طور پر نواقض‘ ناقضۃ کی جمع ہے اور یہ لفظ نقض سے مأخوذ ہے جس کا معنی کسی پختہ چیز کو توڑنا ہے۔ شرعی طور پر اس کا معنی یہ ہے کہ زندگی کے کسی شعبہ میں دین اسلام کے متضاد قول وعمل کا ارتکاب کرنا یا دل میں اس کے برخلاف عقیدہ رکھنا۔ اسے کفر وارتداد سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ بہت سی اشیاء ہیں جسے تین اقسام میں بند کیا جا سکتا ہے جو حسب ذیل ہیں:

\       کفر اعتقاد                                    \       کفر گفتار                         \       کفر کردار

پھر کفر اعتقاد کی پانچ انواع حسب ذیل ہیں:

b       کفر تکذیب: انسان یہ عقیدہ رکھے کہ حضرات ابنیاء o نعوذ باللہ جھوٹ بولتے ہیں‘ یا قرآن وحدیث کے کسی عمل کے متعلق یہ ذہن رکھے کہ اس کی کوئی حیثیت نہیں اور یہ جھوٹ کا پلندہ ہے۔

b       کفر استکبار: تکبر وغرور کی وجہ سے حق کا انکار کر دے اور اپنی انانیت کی وجہ سے اس کے خلاف ڈٹ جائے جیسا کہ فرعون کا کفر ہے۔

b       کفر اعراض: حضرات انبیاءo کو کوئی اہمیت نہ دینا یعنی ان کی تصدیق یا تکذیب کرنے کی بجائے ان کی بات تک سننا گوارا نہ کیا جائے۔

b       کفر نفاق: زبان سے ایمان ظاہر کرنا لیکن دل میں کفر چھپائے رکھنا جیسا کہ دور نبوت میں پائے جانے والے منافقین کا کفر تھا۔

b       کفر شک: حضرات انبیاء o اور ان کی تعلیمات کے متعلق شکوک وشبہات کا اظہار کرنا‘ جیسا کہ دور حاضر کے ملحدین کا کردار ہے۔

یہ فتویٰ پڑھیں:       عورت کی نس بندی کروانا

یہ تمام کفر اعتقاد کی انواع ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے ان کی پناہ مانگتے رہنا چاہیے۔

کفر گفتار: زبان سے کوئی ایسی بات کہنا جو اسلام کے خلاف ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لیے پکارنا‘ رسول اللہe کے دور میں بھی کچھ نمائش قسم کے مسلمانوں نے دین اسلام کے خلاف باتیں کی تھیں جسے قرآن نے ’’کلمہ کفر‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’وہ اللہ کی قسم اٹھا کر کہتے ہیں کہ انہوں نے کوئی ایسی بات نہیں کہی‘ حالانکہ انہوں نے کفر کا کلمہ کہا تھا اور وہ اسلام کے بعد کفر کے مرتکب ہوئے ہیں۔‘‘ (التوبہ: ۷۴)

کفر کردار: اسلام لانے کے بعد کوئی کفر پر مبنی کام کرنا جیسا کہ غیر اللہ کو سجدہ کرنا یا غیر اللہ کے نام پر نذر ونیاز دینا وغیرہ‘ ہمارے ہاں آج کل جو کچھ مزاروں پر ہو رہا ہے وہ کفر کردار ہے۔ اللہ تعالیٰ اہل اسلام کو اس سے محفوظ رکھے۔

جو کچھ ہم نے نواقض اسلام کے سلسلہ میں بیان کیا ہے ان کے ارتکاب سے انسان دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ یہ اس صورت میں ہے جب وہ اپنی رضا ورغبت اور اختیار وارادہ سے کرے۔ اگر کوئی جبر کی حالت میں ایسا کرتا ہے تو اس کے متعلق قرآن کریم نے صراحت کی ہے کہ جبر واکراہ کی صورت میں کوئی کام یا بات کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہو گا۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’جس شخص نے ایمان لانے کے بعد اللہ سے کفر کیا الا یہ کہ وہ مجبور کر دیا جائے اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو (تو یہ معاف ہے) مگر جس نے برضا ورغبت کفر قبول کیا تو ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہے اور انہی کے لیے بہت عظیم عذاب ہے۔‘‘ (النحل: ۱۰۶)

یہ فتویٰ پڑھیں:        ماسک پہن کر نماز پڑھنا

جبر واکراہ سے مراد ایسی مجبوری ہے جس سے انسان بے بس ہو جائے۔ فقہاء نے اس کی تعریف ان الفاظ سے کی ہے کہ ’’کسی شخص کا وہ قول یا فعل جو اسے اس کی خواہش کے خلاف کرنے پر مجبور کر دے۔‘‘ ایسی حالت میں انسان کی رضا معدوم اور اختیار سلب ہو جاتا ہے جسے ہم بے بسی اور لاچارگی سے تعبیر کرتے ہیں۔ مثلاً قتل یا جسم کے کسی حصہ کو ضائع کرنے کی دھمکی یا ایسی مار کی دھمکی جس سے اس کی جان جانے کا اندیشہ ہو۔ ایسے حالات میں اگر کوئی کلمہ کفر کہتا ہے یا کفر کردار کا مرتکب ہوتا ہے تو اللہ کے ہاں اس کا کوئی مؤاخذہ نہیں ہو گا۔ مگر اس میں بھی شرط ہے کہ اس کا دل ایمان پر قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس قسم کے کفر سے محفوظ رکھے۔ (آمین!)


No comments:

Post a Comment

Pages