تحریری طلاق کی حیثیت F20-17-03 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Saturday, September 12, 2020

تحریری طلاق کی حیثیت F20-17-03

احکام ومسائل، تحریری طلاق، طلاق کی حیثیت

تحریری طلاق کی حیثیت

O ایک خاتون اپنے نکاح سے پہلے کسی شخص کو چاہتی تھی۔ لیکن والدین نے اس کا نکاح کسی دوسری جگہ کر دیا۔ اب اس کے چار بچے ہیں لیکن وہ ایک عجیب وغریب مرض میں مبتلا ہے۔ اسے شدید قسم کا دورہ پڑتا ہے اور کافی اذیت میں مبتلا رہتی ہے۔ اسی دوران اپنے خاوند سے کہتی ہے کہ مجھے طلاق دے دو‘ اس کے بیٹے نے طلاق نامہ لکھ کر اپنی والدہ کو دکھایا تا کہ اس کی اذیت کم ہو جائے لیکن اسے کوئی افاقہ نہ ہوا۔ پھر خاوند نے اپنی طرف سے طلاق نامہ لکھ کر دکھایا تو اس کی تکلیف میں خاص کمی ہو گئی اور طبیعت سنبھل گئی۔ کیا یہ طلاق واقع ہو گئی ہے؟!
یہ فتویٰ پڑھیں:      عورت عدتِ وفات کہاں گذارے؟!
P ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم لوگ نکاح کے سلسلہ میں افراط وتفریط کا شکار ہیں۔ بعض دفعہ ہماری بچیاں منہ زور ہوتی ہیں‘ وہ اپنا نکاح والدین کی رضا مندی کے بغیر کر لیتی ہیں اور بعض دفعہ ہم خود بہت سخت مزاج بن جاتے ہیں کہ نکاح کرتے وقت بچی کو اعتماد میں لینا گوارا نہیں کرتے۔ جبکہ شریعت میں نہ تو عورت مطلق العنان ہے کہ وہ جب چاہے جہاں چاہے اپنی شادی رچا لے اور نہ ہی وہ اس قدر مجبور ہے کہ اس کا سرپرست جب چاہے جس سے چاہے اس کا نکاح کر دے اور وہ مجبور ہو کر خاموش رہے۔ بلکہ شریعت نے توازن برقرار رکھا ہے‘ نکاح میں ولی کی اجازت کو ضروری قرار دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ بچی کی رضا مندی کو بھی بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
صورت مسئولہ میں نکاح کے وقت لڑکی کی مرضی کو نظر انداز کر کے اس کا نکاح ایسی جگہ کر دیا گیا جہاں وہ نہیں چاہتی تھی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ زندگی بھر کے لیے نفسیاتی مریض بن گئی ہے۔ ہمارے رجحان کے مطابق اس کی بنیادی وجہ عورت کا محبت میں ناکام ہونا ہے اور ایک ناپسندیدہ شخص سے شادی ہے۔ یہ قابل نفرت مسائل سے ہے‘ اگرچہ اس نے بادل نخواستہ اس نکاح کو قبول کر لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بچے بھی پیدا ہو چکے ہیں اور اگر اس نے اس نکاح کو دل سے قبول نہیں کیا تو کفر یعنی نا شکری والی زندگی گذار رہی ہے جو انجام کے اعتبار سے بہتر نہیں۔
یہ فتویٰ پڑھیں:      بیوی کو ملازمت پر مجبور کرنا
اسے چاہیے کہ وہ خلع لے کر اپنے ایمان کو بچانے کی فکر کرے۔ باقی اس طرح طلاق کا مسئلہ تو ہمارے نزدیک چونکہ اس کے خاوند نے صراحت کے ساتھ لفظ طلاق لکھا ہے اس لیے اس کے واقع ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ اگرچہ کچھ اہل علم کا موقف ہے کہ تحریری طلاق میں نیت کا اعتبار ہوتا ہے‘ ہمیں اس موقف سے اتفاق نہیں۔ واللہ اعلم!

No comments:

Post a Comment

Pages