عاشوراء محرم میں دستر خوان کی وسعت F20-17-02 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Saturday, September 12, 2020

عاشوراء محرم میں دستر خوان کی وسعت F20-17-02

احکام ومسائل، عاشوراء، محرم الحرام

عاشوراء محرم میں دستر خوان کی وسعت

O ایک حدیث کے حوالے سے اکثر واعظین یہ بیان کرتے ہیں کہ ۱۰ محرم کو اگر گھر میں مختلف قسم کے کھانے پکائے جائیں تو اللہ تعالیٰ سارا سال رزق میں فراوانی کرتے ہیں۔ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اس سلسلہ میں جو حدیث بیان کی جاتی ہے اس کی بھی وضاحت کریں۔
یہ فتویٰ پڑھیں:      سحری کھانا
P آج کل جس میڈیا سے ہمیں پالا پڑا ہے اکثر وبیشتر یہ دجالی میڈیا کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اپنی طرف سے احادیث بنا کر بخاری اور مسلم کے حوالے سے انہیں نشر کیا جاتا ہے۔ چنانچہ آج کل رسول اللہe کی طرف منسوب حدیث بایں الفاظ بیان کی جاتی ہے اور حدیث بیان کرنے کے بعد مسلم شریف کا حوالہ دیا جاتا ہے‘ وہ حدیث یہ ہے: ’’جو شخص ۱۰ محرم کو اپنے اہل وعیال پر رزق کی وسعت کرے گا اللہ جل شانہ سارا سال اس کے رزق میں وسعت کرے گا۔‘‘ … ایسی احادیث کا نتیجہ یہ ہے کہ لوگ عاشوراء کے دن گھر میں مختلف پکوان تیار کر کے انہیں لوگوں میں تقسیم کرتے ہیں تا کہ آئندہ سارا سال گھر میں رزق کی فراوانی رہے۔ حالانکہ یہ بے بنیاد حدیث ہے جیسا کہ ہم آگے بیان کرتے ہیں۔ اس حدیث کو صاحب مشکوٰۃ نے امام رزین کے حوالے سے بیان کیا ہے۔ پھر امام بیہقیa کے حوالے سے لکھا ہے کہ انہوں نے بھی سیدنا عبداللہ بن مسعود‘ سیدنا ابوہریرہt سیدنا ابوسعید اور سیدنا جابر] سے اپنی کتاب ’’شعب الایمان‘‘ میں بیان کیا ہے اور ساتھ اس بات کی بھی وضاحت کی ہے کہ انہوں نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔ (مشکوٰۃ‘ الزکوٰۃ: ۱۹۲۶)
اس کے ساتھ امام سفیان ثوریa کے حوالے سے لکھا ہے کہ ہم نے اس کا تجربہ کیا ہے‘ واقعی یہ بات صحیح ہے‘ حاشیہ میں علامہ البانی لکھتے ہیں: ’’اس حدیث کی جتنی بھی سندیں ہیں سب کمزور ہیں۔ امام ابن تیمیہa نے تو اس حدیث کے خود ساختہ ہونے کا فیصلہ دیا ہے۔ یہاں امام سفیان ثوریa کے تجربہ کی بات ہے تو شریعت کسی کے تجربات سے ثابت نہیں ہوتی۔‘‘ (سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ: ۶۸۲۴)
اس حدیث کے متعلق امام احمدa فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی کوئی بنیاد نہیں اور نہ ہی اس کی کوئی سند ثابت ہے۔ (منہاج السنہ: ج۱‘ ص ۲۱۹)
یہ فتویٰ پڑھیں:      احتساب کے معنی
امام ابن تیمیہa لکھتے ہیں کہ اس دن کے متعلق کچھ لوگوں نے بے بنیاد احادیث کے بل بوتے پر فضائل بیان کیے ہیں جن کی کوئی اصل نہیں۔ (اقتضاء الصراط المستقیم: ۳۰۰)
بلکہ ایک مقام پر لکھتے ہیں کہ امام مالک‘ امام ابوحنیفہ‘ امام شافعی‘ امام ثوری‘ امام اوزاعی اور دیگر ائمہ نے اس حدیث کو موضوع قرار دیا ہے۔ (فتاویٰ ابن تیمیہ: ج۲۵‘ ص ۳۱۳)
امام بیہقیa نے جن صحابہ کرام] سے یہ حدیث بیان کی ہے اس کی تفصیل یہ ہے:
\     سید جابرt ، حدیث: ۳۵۱۲       
\     سیدنا عبداللہ بن مسعودt، حدیث: ۳۵۱۳
\     سیدنا ابوسعید خدریt، حدیث: ۳۵۱۴
\     سیدنا ابوہریرہt، حدیث: ۳۵۱۵
علامہ عبیداللہ رحمانیa نے اس کے متعلق سیر حاصل بحث کی ہے۔ (مرعاۃ: ج۶‘ ص ۳۶۳)
یہ فتویٰ پڑھیں:      حالت جنابت میں روزہ رکھنا
حالانکہ اس دن کا روزہ رکھنا مشروع ہے۔ جس کی احادیث میں فضیلت آئی ہے کہ اس سے ایک سال کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں لیکن لوگ اس دن مختلف پکوان تیار کرنے میں لگے رہتے ہیں جو رسول اللہe کی سنت کے بالکل خلاف ہے۔ مختصر یہ کہ اس دن کھانے میں وسعت والی بات بالکل بے اصل اور من گھڑت ہے۔ واللہ اعلم!

No comments:

Post a Comment

Pages