ماسک پہن کر نماز پڑھنا F20-17-01 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Saturday, September 12, 2020

ماسک پہن کر نماز پڑھنا F20-17-01

ماسک پہن کر نماز پڑھنا، احکام ومسائل، ماسک پہن کر نماز، ماسک کے ساتھ نماز

ماسک پہن کر نماز پڑھنا

O کرونا کی وجہ سے جو طبی ہدایات دی جاتی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ منہ پر ماسک پہنا جائے تا کہ چھینک آنے سے اس وباء کے جرائم دوسروں کو منتقل نہ ہوں۔ کیا اس حالت میں نماز ادا کرنا شرعی اعتبار سے درست ہے؟!
یہ فتویٰ پڑھیں:      اقامت کے بعد سنت فجر ادا کرنا
P کرونا کی وباء نے تمام دنیا کو تلپٹ کر کے رکھ دیا ہے۔ اس کے متعلق بے شمار طبی ہدایات دی جاتی ہیں‘ ان میں سے ایک یہ ہے کہ منہ پر ماسک پہنا جائے۔ دوران نماز بھی اسے نہ اتارا جائے تا کہ چھینک آنے سے اس کے جراثیم آگے منتقل نہ ہوں۔ اب اس صورت حال کے پیش نظر ایک شرعی مسئلہ سامنے آیا ہے کہ منہ ڈھانپ کر نماز پڑھنے کی ممانعت ہے تو کیا دوران نماز بھی ماسک پہنا جا سکتا ہے؟ اس سلسلہ میں جو روایت پیش کی جاتی ہے وہ حسب ذیل ہے: سیدنا ابوہریرہt بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہe نے نماز میں سدول سے منع فرمایا ہے اور اس سے بھی کہ انسان منہ ڈھانپ کر نماز پڑھے۔‘‘ (ابوداؤد‘ الصلوٰۃ: ۶۴۳)
سوال یہ ہے کہ چادر کو اس کے درمیان سے اپنے سر یا کندھوں پر اس طرح ڈال لیا جائے کہ اس کی دائیں بائیں اطراف لٹکتی رہیں۔ یہ بھی سدول کی ایک صورت ہے کہ کپڑے کو اس انداز سے اپنے اوپر لپیٹ لیا جائے کہ ہاتھ اندر ہی بند ہو جائیں پھر رکوع اور سجدے میں بھی ان کو نہ نکالا جائے۔ یہ دونوں صورتیں نماز کے منافی ہیں۔ اس کی ممانعت دیگر احادیث میں بھی آتی ہے۔ البتہ منہ ڈھانپ کر نماز پڑھنے کی ممانعت اسی حدیث میں ہے۔ لیکن یہ حدیث سند کے اعتبار سے قابل حجت نہیں کیونکہ اس میں حسن بن ذکوان نامی ایک راوی مدلس ہے۔ جس کی اپنے استاذ جناب سلیمان احول سے تصریح سماع نہیں۔ لیکن ایک روایت میں حسین بن ذکوان ہے۔ (مستدرک الحاکم: ج۱‘ ص ۲۵۳)
لیکن یہ تحریر ہے کہ دراصل حسن بن ذکوان کو ہی وہم کی بنیاد پر حسین بن ذکوان بنا دیا گیا ہے۔ اس بناء پر مرفوع روایت تو ثابت نہیں البتہ اس ممانعت کے متعلق اسلاف کے کچھ فتاویٰ حسب ذیل ہیں: مصنف ابن ابی شیبہ میں ایک عنوان بایں الفاظ ہے: ’’دوران نماز منہ ڈھانپنا‘‘۔ پھر ابراہیم نخعی کا فتویٰ بایں الفاظ نقل کیا گیا ہے: ’’ابراہیم نخعی کے نزدیک یہ بات مکروہ ہے کہ آدمی دوران نماز اپنے منہ کو ڈھانپے اور اسی طرح عورت کے لیے بھی مکروہ ہے کہ وہ نقاب پہن کر نماز پڑھے۔‘‘ (کتاب الآثار لابی یوسف‘ رقم: ۱۴۸)
یہ فتویٰ پڑھیں:      نماز وتر کی حیثیت
حضرت سالم بن عبداللہ جب کسی کو دیکھتے کہ وہ دوران نماز منہ پر کپڑا لپیٹے ہوئے ہے تو آپ اس کے منہ سے سختی کے ساتھ کپڑا کھینچتے تا آنکہ اس کے منہ سے کپڑا ہٹا دیتے۔ (موطأ امام مالک، نمبر: ۴۳)
ان آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلاف‘ دوران نماز منہ ڈھانپنے کو مکروہ خیال کرتے تھے۔ تا ہم صورت مسئولہ میں ایک اضطراری حالت ہے اور اضطراری حالت میں کچھ چیزیں مباح قرار پاتی ہیں جو عام حالات میں ناجائز ہوتی ہیں۔ ہمارا رجحان یہ ہے کہ اس سلسلہ میں مرفوع روایت تو صحیح نہیں لیکن اضطراری حالت میں اگر منہ ڈھانپ کر نماز پڑھی جائے تو اس میں شرعی طور پر گنجائش ہے۔ واللہ اعلم!

No comments:

Post a Comment

Pages