عورت کی نس بندی کروانا F20-16-03 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Saturday, August 29, 2020

عورت کی نس بندی کروانا F20-16-03

احکام ومسائل، نس بندی، منصوبہ بندی، عورت کی نس بندی کروانا

عورت کی نس بندی کروانا

O عورت کے ہاں تین بچے بڑے آپریشن سے ہوئے‘ اب ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اس کی نس بندی کرا دی جائے کیونکہ آئندہ حمل ٹھہرنے کی صورت میں زچہ وبچہ دونوں میں سے ایک کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ کیا شرعی طور پر ایسے حالات میں نس بندی کرائی جا سکتی ہے؟
P نس بندی یہ ہے کہ عورت کا رحم نکال دیا جائے یا اسے بند کر دیا جائے تا کہ اولاد پیدا نہ ہو۔ ایسا کرنا درست نہیں بلکہ اس کا علاج کیا جائے اور پرہیز کیا جائے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ شروع میں خطرہ نظر آتا ہے لیکن علاج کے بعد عورت حمل اٹھانے کے قابل ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر حضرات کچھ زیادہ ہی ہراساں کر دیتے ہیں۔
ہمارے رجحان کے مطابق اچھے طریقہ سے اس عورت کی خوراک اور علاج ومعالجہ کا اہتمام کیا جائے۔ اگر پھر بھی اس کی صحت بحال نہ ہو تو ماہر مسلمان ڈاکٹر اس بات کی توثیق کر دے کہ یہ عورت اب بچہ پیدا کرنے کی متحمل نہیں تو پھر بچوں کی منصوبہ بندی کے بارے میں غور وفکر کر لیا جائے۔ اگر ایسا نہیں تو وقفہ کریں اور علاج کی طرف توجہ دیں۔ جو دوائی اچھی سے اچھی تجویز کی جائے وہ اسے دی جائے تا کہ وہ بچہ پیدا کرنے کی متحمل ہو جائے۔ نکاح سے مقصود بھی یہی ہوتا ہے کہ نسل اور ذریت میں اضافہ ہو اور کثرت اولاد اس امت کی برتری کا باعث ہے۔
اس کو پڑھیں:    ایک مسئلہ رضاعت
لیکن اگر کوئی کسی خاص صورت میں اس کی متحمل نہ رہے اور کمزوری اس قدر بڑھ جائے کہ علاج معالجہ کرنے کے ساتھ بھی درست نہ ہو تو وہ ایک انتہائی اور مخصوص شکل ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے عورت کی جان بچانے کے لیے کوئی بھی تدبیر اختیار کی جا سکتی ہے۔ لیکن نس بندی سے گریز کیا جائے۔ ایسا کرنا کئی ایک بیماریوں کا پیش خیمہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی ایک معاشرتی نقصانات ہیں۔ واللہ اعلم!


No comments:

Post a Comment

Pages