گونگے بہرے کا وراثت سے حصہ F20-16-02 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Saturday, August 29, 2020

گونگے بہرے کا وراثت سے حصہ F20-16-02

احکام ومسائل، گونگے بہرے، وراثت، گونگے بہرے کا وراثت سے حصہ

گونگے بہرے کا وراثت سے حصہ

O ایک آدمی فوت ہوا اور اس کے دو بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔ بیٹوں میں ایک گونگا بہرا اور ذہنی طور پر بھی کم عقل اور کمزور ہے۔ تو کیا جائیداد سے اس کا حصہ بھی برابر کا نکلے گا؟ نیز یہ جائیداد کیسے تقسیم ہو گی؟!
P قرآن کریم میں ہے: ’’جو جائیداد والدین یا قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں اس میں سے آدمیوں کا حصہ ہے اور عورتیں بھی اس سے حصہ لیں گی خواہ جائیداد کم ہو یا زیادہ‘ ہر ایک کا طے شدہ مقرر حصہ ہے۔‘‘ (النساء: ۷)
اس کا مطلب یہ ہے کہ والدین کے ترکہ سے تمام ذکور واناث اولاد حصہ پاتی ہے۔ باقی ذہنی کمزوری یا گونگا بہرا ہونا یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ اس میں کسی دوسرے کا کوئی اختیار نہیں۔ البتہ اپنے والدین کی جائیداد سے ذہنی کمزور اور گونگا بہرا بھی برابر کا حقدار ہے۔
صورت مسئولہ میں مرحوم کی جائیداد ساڑھے پانچ ایکڑ زرعی زمین ہے جس کے آٹھ صد اسی مرلے بنتے ہیں۔ پسماندگان میں دو بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔ ان کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری اولاد کے متعلق تاکیدی حکم دیتا ہے کہ مذکر کو دو عورتوں کے مساوی حصہ دیا جائے۔‘‘ (النساء: ۱۱)
اس آیت کے مطابق مرحوم کی جائیداد کے آٹھ حصے کیے جائیں۔ جب ہم اس جائیداد کو آٹھ پر تقسیم کریں گے تو ایک حصہ ایک سو دس مرلے کا آئے گا۔ پھر ایک حصہ ایک بیٹی کو اور اس کا ڈبل یعنی دو صد بیس مرلے ایک بیٹے کو دیئے جائیں۔ جو بیٹا گونگا بہرا اور ذہنی طور پر معذور ہے اس کا حصہ دوسرے بیٹے کو دیا جائے جس کے پاس وہ رہتا ہے اور جس کے زیر کفالت ہے‘ وہ عدل وانصاف کے ساتھ اس پر خرچ کرے۔ ذہنی معذوری اگر قابل علاج ہے تو اس کے علاج پر خرچ کیا جائے۔ اس کے حصے کو حیلے بہانے سے ہضم کرنے کی کوشش نہ کرے۔ اسے باپ کی جائیداد سے محروم نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ محرومی کے اسباب میں سے کسی کا گونگا بہرا ہونا یا ذہنی طور پر کمزور ہونا نہیں۔ اس لیے وہ بیٹا بھی اپنے باپ کی جائیداد سے برابر کا حقدار ہے۔


No comments:

Post a Comment

Pages