اشارے سے اسلام قبول کرنا F20-16-01 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Saturday, August 29, 2020

اشارے سے اسلام قبول کرنا F20-16-01

احکام ومسائل، اشارے سے اسلام قبول کرنا

اشارے سے اسلام قبول کرنا

O میرا ایک دوست جو پہلے عیسائی تھا‘ اسلام قبول کیا‘ کافی تبلیغ اور کاوشوں سے اس کی بیوی اور بچے بھی مسلمان ہو گئے۔ اس کی والدہ فالج کی مریضہ تھی جو بول نہیں سکتی تھیں۔ اس نے اپنے بیٹے کو اشارہ سے سمجھایا کہ میں بھی مسلمان ہونا چاہتی ہوں۔ میں ایک عالم کے پاس گیا کہ والدہ کو کیسے کلمہ پڑھایا جائے‘ جب میں واپس آیا تو وہ فوت ہو چکی تھیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا والدہ مسلمان سمجھی جا سکتی ہے؟ واضح رہے کہ اسے عیسائی کے قبرستان میں ہی دفن کر دیا گیا ہے۔
اس کو پڑھیں:    شرک وبدعت کے مراکز
P اسلام میں داخل ہونے کے لیے ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کا اقرار کرنا ہے اور یہ اقرار دل کے اذعان ویقین کے ساتھ کیا جائے‘ یعنی دین اسلام میں داخل ہونے کے لیے شہادتین کا زبانی اقرار یا اس کے قائمقام کوئی اقدام یا اس کے لیے معمولی سی رہنمائی بھی کافی ہے۔ اگرچہ اسلام کے اظہار کے لیے تعبیر غلط ہی کیوں نہ ہو۔ چنانچہ رسول اللہe اور آپ کے صحابہ کرام] اس شخص کے مسلمان ہونے کی شہادت دیتے تھے جو اللہ وحدہٗ لا شریک کو معبود برحق اور رسالت محمدی کا اقرار وتصدیق کرتا تھا۔ اسلام میں داخل ہونے کے لیے اس سے زیادہ کسی بات کا مطالبہ نہیں کیا جاتا تھا۔ چنانچہ رسول اللہe نے اپنے چچا ابوطالب سے صرف شہادتین کے اقرار وتصدیق کا مطالبہ کیا تھا۔ لیکن اس نے ابوجہل اور عبداللہ بن ابی ربیعہ کے کہنے پر اس اقرار وتصدیق سے انکار کر دیا تو یہ آیت نازل ہوئی: ’’اے نبی! جسے آپ چاہیں اسے ہدایت نہیں دے سکتے‘ اللہ ہی جسے چاہے ہدایت دیتا ہے کیونکہ وہ ہدایت پانے والوں کو خوب جانتا ہے۔‘‘ (القصص: ۵۶)
بعض اوقات رسول اللہe نے صرف سر کے اشارے کو بھی اقرار وتصدیق کے قائمقام قرار دیا۔ جیسا کہ شرید بن سوید ثقفیt بیان کرتے ہیں: ’’رسول اللہe نے ایک لونڈی سے پوچھا کہ تیرا رب کون ہے؟ اس نے اوپر آسمان کی طرف اشارہ کر دیا۔ پھر پوچھا میں کون ہوں تو اس نے پہلے آسمان کی طرف پھر آپe کی طرف اشارہ کیا۔ اس پر رسول اللہe نے اس کے مومن ہونے کی گواہی دی۔‘‘ (ابوداؤد‘ الایمان والنذور: ۳۲۸۳)
بلکہ اقرار وتصدیق کی بجائے اگر قرائن سے کسی کا مسلمان ہونا معلوم ہو گیا تو اسے ہی کافی سمجھ لیا گیا۔ جیسا کہ سیدنا معاویہ بن حکمt نے کسی کفارہ میں ایک لونڈی کو آزاد کرنا تھا۔ رسول اللہe نے اس لونڈی سے دریافت کیا: ’’اللہ کہاں ہے؟‘‘ اس نے کہا آسمانوں میں۔ پھر آپe نے فرمایا: ’’میں کون ہوں؟‘‘ اس نے عرض کیا: آپ اللہ کے رسول ہیں۔ رسول اللہe نے فرمایا: ’’اسے آزاد کر دو یہ مومنہ ہے۔‘‘ (مسلم، المساجد: ۵۳۷)
بلکہ اگر معمولی سی رہنمائی مل جائے کہ وہ مسلمان ہے اور اسلام لانے کی تعبیر میں اس سے غلطی ہی کیوں نہ ہو جائے‘ تب بھی اس کے اسلام کا اعتبار کیا جائے گا۔ جیسا کہ ایک مرتبہ رسول اللہe نے سیدنا خالد بن ولیدt کو بنو جذیمہ کی طرف دعوتِ اسلام دینے کے لیے بھیجا‘ ان کی حکیمانہ دعوت سے وہ قبیلہ مسلمان تو ہو گیا لیکن اچھی طرح اپنے اسلام کا اظہار نہ کر سکا۔ بلکہ صبأنا صبأنا کہنا شروع کر دیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ’’ہم اپنے آبائی دین سے الگ ہو گئے ہیں۔‘‘ سیدنا خالدt نے ان کے اس طرح اظہار اسلام کو قبول نہ کیا۔ چنانچہ ان میں سے کچھ قتل کر دیئے گئے اور کچھ کو قیدی بنا لیا۔ جب رسول اللہe سے اس واقعہ کا تذکرہ ہوا تو آپe نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور ہاتھ اٹھا کر اللہ کے حضور یوں گویا ہوئے: ’’اے اللہ! جو کچھ خالد نے کیا ہے میں اس سے بری الذمہ ہوں۔‘‘ (بخاری‘ المغازی: ۴۳۳۹)
ان احادیث وواقعات کی روشنی میں ہم صورت مسئولہ کا جائزہ لیتے ہیں کہ برخوردار جو عیسائیت کو ترک کر کے نیا نیا مسلمان ہوا ہے پھر اس کی محنتوں اور کوششوں سے بیوی‘ بچے بھی مسلمان ہو گئے۔ اس کی والدہ بیمار ہے اور اسے فالج کا مرض لاحق ہے۔ وہ زبان سے بول نہیں سکتی تھی۔ اس نے اپنے نو مسلم بچے کو اشارہ سے کہا کہ وہ بھی کلمہ پڑھ کر مسلمان ہونا چاہتی ہے۔ وہ کسی دوست کے پاس جاتا ہے تا کہ معلوم کر سکے کہ ان حالات میں والدہ کو کیسے مسلمان کیا جائے؟ جب وہ واپس آیا تو والدہ اللہ کو پیاری ہو چکی تھی۔ اس نے اپنے دل کا اظہار تو کر ہی دیا تھا لیکن وہ زبان سے بوجہ بیماری بول نہیں سکتی تھی۔
اس کو پڑھیں:    قطب یا ابدال کیا ہیں؟!
ہمارے رجحان کے مطابق وہ خاتون مسلمان ہے۔ اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے تھا۔ اب غائبانہ جنازہ پڑھ لیا جائے اور اسے عیسائیوں کے قبرستان سے نکال کر مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے۔ نیز اس کی تدفین بھی اسلامی طریقہ کے مطابق کی جائے۔ واللہ اعلم!


No comments:

Post a Comment

Pages