شرک وبدعت کے مراکز F20-15-03 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Saturday, August 22, 2020

شرک وبدعت کے مراکز F20-15-03

احکام ومسائل، شرک وبدعت، عقیدہ، توحید، شرک وبدعت کے مراکز

شرک وبدعت کے مراکز

O ہمارے ہاں پاکستان میں شرک وبدعت کے بہت سے مراکز ہیں‘ مزارات پر جو کچھ ہو رہا ہے وہ کسی سے مخفی نہیں‘ ایسے حالات میں ایک غیور مسلمان کے لیے کیا حکم ہے؟!
اس کو پڑھیں:    صاع کا وزن اور اس کا حجم
P اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ارد گرد شرک وبدعت کے بہت سے مراکز قائم ہیں۔ ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم دعوت وتبلیغ کے ذریعے ان کی اصلاح کے لیے کوشاں رہیں‘ ان کے خلاف عملی طور پر کوئی کارروائی کرنا اسلامی حکومت کا کام ہے۔ عامۃ الناس کو یہ اجازت نہیں د ی جا سکتی کہ وہ قانون کو ہاتھ میں لے کر کوئی کارروائی کریں جو کسی نئے فتنے اور فساد کا باعث ہو۔ رسول اللہe اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ رسول ہونے کے ساتھ ساتھ صاحب اختیار حاکم بھی تھے۔ اس لیے انہوں نے ایسے شرک وبدعت کے خلاف عملی کارروائی کی اور ایسی کارروائی کرنے کا حکم دیا۔ جیسا کہ سیدنا جریر بن عبداللہt فرماتے ہیں کہ قبیلہ خثعم کا ایک بت کدہ تھا جسے کعبہ یمانیہ کہا جاتا تھا۔ رسول اللہe نے مجھے حکم دیا کہ ’’تم ذی خلصہ کو تباہ کر کے مجھے کیوں خوش نہیں کرتے؟‘‘ چنانچہ میں قبیلہ احمس کے ڈیڑھ صد سواروں کو لے کر تیار ہو گیا اور یہ سب بہترین شہسوار تھے۔ میں وہاں گیا اور اس کعبہ یمانیہ کو آگ لگا کر اسے تباہ کر دیا۔ پھر رسول اللہe کو خوش خبری دینے کے لیے آپe کی طرف ایک قاصد روانہ کیا۔ (بخاری‘ الجہاد: ۳۰۷۶)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اسلامی حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ شرک وبدعت کے مراکز ختم کرے خواہ وہ مراکز مذہب کے نام پر ہی کیوں نہ بنائے گئے ہوں۔ جیسا کہ رسول اللہe نے مدینہ طیبہ کے نواح میں ایک مسجد کو بھی گرا دینے کا حکم دیا تھا جو مسجد ضرار کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہے۔ (التوبہ: ۱۰۷)
اس کو پڑھیں:    زرعی زکوٰۃ کے مسائل
دور حاضر میں ان واقعات کی آڑ میں ایسے بت کدوں کو گرانے کی اجازت نہیں کیونکہ اس سے فساد اور بدامنی پھیلنے کا اندیشہ ہے تا ہم اگر حکومت یہ کام کرے تو درست ہے۔ واللہ اعلم!


No comments:

Post a Comment

Pages