عورت عدتِ وفات کہاں گذارے؟ F20-15-02 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Saturday, August 22, 2020

عورت عدتِ وفات کہاں گذارے؟ F20-15-02

احکام ومسائل، احکام عدت، وفات، عدت وفات

عورت عدتِ وفات کہاں گذارے؟!

O میرے والد محترم کی وفات ہو گئی ہے جبکہ ان کی عمر ۹۵ سال تھی اور میری والدہ کی عمر ۸۰ سال ہے۔ تمام بچے شادی شدہ ہیں اور دور‘ دور اپنے گھروں میں رہتے ہیں۔ کیا میں اپنی والدہ کو عدت گذارنے کے لیے اسلام آباد لا سکتی ہوں؟
P ابتدائے اسلام میں جس عورت کا خاوند فوت ہو جاتا‘ اسے ایک سال تک عدت پوری کرنا ہوتی‘ گھر والے اسے گھر میں ایک کٹیا میں رکھتے تھے اور اسے وہیں کھانا وغیرہ دیا جاتا اور اسی مقام پر اپنی حوائج ضروریہ پوری کرتی تھیں۔ وہ ماحول اس قدر گندہ اور متعفن ہو جاتا کہ جب وہ سال کے بعد باہر نکلتی تو اس کے ہاتھ اگر کسی جانور کو لگ جاتے تو وہ جانور فورا مر جاتا‘ اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے: ’’اور جو لوگ تم میں سے فوت ہو جائیں اور اپنی بیویاں چھوڑ جائیں تو وصیت کے طور پر انہیں ایک سال تک سامان زیست دیا جائے اور انہیں گھروں سے نہ نکالا جائے۔‘‘ (البقرہ: ۲۴۰)
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم کرتے ہوئے ایک سال کی عدت ختم کر کے چار ماہ دس دن مقرر کیے ہیں۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو ان بیویوں کو چار ماہ دس دن انتظار کرنا ہو گا۔‘‘ (البقرہ: ۲۳۴)
اس کو پڑھیں:    ایک مسئلہ رضاعت
حدیث میں ہے کہ سیدنا ابوسعید خدریt کی بہن سیدہ فریعہ بنت مالک بن سنانr‘ نبی اکرم e کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میرے شوہر اپنے بھگوڑے غلاموں کی تلاش میں باہر گئے تھے۔ ان غلاموں نے انہیں مار دیا ہے اور میرے خاوند کا کوئی مملوکہ مکان نہیں۔ کیا میں عدت کے ایام اپنے خاندان بنی خدرہ میں جا کر گذار لوں؟ رسول اللہe نے پہلے تو اسے اجازت دے دی لیکن پھر آپe نے فرمایا: ’’اپنے شوہر کے مکان میں اقامت رکھو حتی کہ کتاب اللہ میں بیان کی ہوئی عدت پوری ہو جائے۔‘‘ (ابوداؤد: ۲۳۰۰)
وہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہe کے حکم کے مطابق اس گھر میں عدت کے ایام پورے کیے جس میں اپنے خاوند کے ہمراہ رہتی تھی۔
اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ جس عورت کا خاوند فوت ہو جائے‘ اسے عدت کے ایام اپنے خاوند کے گھر میں ہی گذارنا ہوں گے۔ یہ خاوند کا اس کے ذمے ایک حق ہے جو اس نے بہرحال پورا کرنا ہے۔ اس میں عمر کی کوئی حد نہیں کہ عورت اگر اس عمر کو پہنچ جائے تو اس پر عدت کی پابندیاں نرم ہو جائیں۔ عورت جس عمر میں بھی ہوئی اس کا خاوند اگر فوت ہو جائے تو چار ماہ دس دن اس نے خاوند کے گھر میں ہی گذارنے ہیں۔
صورت مسئولہ میں کوئی ایسی مصلحت نہیں جس کے پیش نظر اسے خاوند کے گھر سے جانے کی اجازت دی جائے۔ جو اس کی بیٹیاں ہیں وہ باری باری اپنی ماں کے پاس آجایا کریں اور اس کے کھانے پکانے کا انتظام کریں۔ ہاں اگر کوئی ایسا ذاتی کام جو اس کے بغیر نہیں ہو سکتا تو وہ کام کرنے کے لیے گھر سے باہر جا سکتی ہے اور کام مکمل کر کے رات اپنے گھر واپس آجائے۔ مثلاً عدالت میں گواہی دینا کیونکہ عدالت کا کوئی اہل کار اس کے پاس گھر میں گواہی لینے نہیں آ سکتا یا ڈاکٹر کے پاس جانا اس صورت میں کہ ڈاکٹر اس کے پاس گھر میں نہیں آ سکتا تو ایسے حالات میں وہ گھر سے باہر جا سکتی ہے۔ بصورت دیگر اسے گھر میں رہنا ہے اور اسی گھر میں اپنے عدت کے ایام پورے کرنے ہیں۔ واللہ اعلم!


No comments:

Post a Comment

Pages