ایک مسئلہ رضاعت F20-15-01 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Saturday, August 22, 2020

ایک مسئلہ رضاعت F20-15-01

احکام ومسائل، رضاعت، ایک مسئلہ رضاعت

ایک مسئلہ رضاعت

O میرا نومولود بھائی رو رہا تھا اور امی کپڑے دھو رہی تھیں‘ میری پھوپھی نے بھائی کو اٹھایا اور اسے اپنا دودھ پلا دیا اور ایسا صرف ایک دفعہ ہوا ہے۔ کیا اس طرح دودھ پلانے سے رضاعت ثابت ہو جاتی ہے؟
P شریعت کے بعض مسائل ایسے ہیں کہ ہمیں ان کی نزاکت کا احساس نہیں‘ ان میں سے ایک کسی اجنبی بچے کو دودھ پلانے کا مسئلہ ہے۔ ہم از راہ ہمدردی اس بچے کو دودھ پلا دیتے ہیں۔ اس کے بعد رشتہ کرنے کے متعلق بہت سے مسائل کھڑے ہو جاتے ہیں۔
صورت مسئولہ میں بھی اسی طرح کا مسئلہ ہے۔ بلاشبہ دودھ پلانے سے حرمت ثابت ہو جاتی ہے اور یہ حرمت دودھ پلانے والی عورت کے تمام رشتے داروں کے ساتھ اور دودھ پینے والے تمام رشتے داروں کے ساتھ نہیں بلکہ صرف اس بچے کے ساتھ قائم ہوتی ہے جس نے کسی اجنبی عورت کا دودھ پیا ہے اور یہ حرمت خونی اور نسبی حرمت کی طرح ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے: ’’دودھ پینے سے حرمت قائم ہو جاتی ہے جس طرح نسب کی حرمت ہوتی ہے۔‘‘ (مسلم: ۱۴۴۵)
\       پہلی شرط یہ ہے کہ اس بچے نے دودھ پینے کی مدت میں دودھ پیا ہو اور دودھ پینے کی مدت دو سال ہے‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں تین مقامات پر اسے بیان کیا ہے۔ ارشاد بارئیت عالیٰ ہے: ’’اور مائیں اپنی اولاد کو پورے دو سال دودھ پلائیں‘ یہ ان کے لیے ہے جن کا ارادہ دودھ کی مدت پوری کرنے کا ہو۔‘‘ (البقرہ: ۲۳۳)
اسی طرح سورۂ لقمان آیت نمبر ۱۴ اور سورۂ الاحقاف آیت نمبر ۱۵ میں مذکور آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ دودھ کی مدت دو سال ہے۔ اگر اس مدت میں دودھ پیا جائے تو حرمت ثابت ہو گی کیونکہ اس مدت میں دودھ بچے کی نشو ونما کا باعث ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے: ’’اس رضاعت کا اعتبار ہو گا جس کی وجہ سے انتڑیاں پھلیں پھولیں اور پھیلیں۔‘‘ (ابن حبان: ۴۲۲۴)
اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بچے کی غذا دودھ ہی ہو تو اس سے رضاعت ثابت ہو گی۔
\       رضاعت کے معتبر ہونے کی دوسری شرط یہ ہے کہ بچہ کم از کم پانچ مرتبہ دودھ پیئے اور ایک مرتبہ دودھ پینے کا مطلب یہ ہے کہ بچہ‘ جب دودھ پینے کے لیے عورت کی چھاتی کو منہ میں ڈالے اور دودھ پینا شروع کرے تو سیر ہو کر خود بخود چھاتی کو چھوڑ دے۔ اگر بچے کو چھینک آگئی اور اس نے چھاتی چھوڑ کر دودھ پینا بند کر دیا یا اچانک کسی کے آنے سے دودھ چھوڑ دیا یا کسی اور ہنگامی وجہ سے سیر ہوئے بغیر دودھ چھوڑ دیا تو یہ ایک مرتبہ نہیں ہو گا۔ ایک مرتبہ دودھ پینے کا مطلب یہ ہے کہ بچہ اپنی مرضی سے چھاتی کو منہ میں ڈالے اور سیر ہونے کے بعد خود بخود اس کو چھوڑ دے۔ اس طرح کم از کم پانچ مرتبہ دودھ پیئے تو اس سے حرمت ثابت ہو گی۔ جیسا کہ سیدنا ابوحذیفہt کی بیوی سے رسول اللہe نے فرمایا تھا۔ جب انہوں نے سیدنا سالمt کے متعلق آپ سے سوال کیا تھا: ’’تم اسے پانچ مرتبہ دودھ پلا دو تو اس نے پانچ مرتبہ دودھ پلایا تھا۔‘‘ (ابوداؤد: ۲۰۶۱)
سیدہ عائشہr سے روایت ہے کہ آپe نے فرمایا: ’’قرآن میں نازل کیا گیا تھا کہ بچے کو دس مرتبہ دودھ پلانے سے حرمت ثابت ہوتی ہے‘ پھردس دفعہ دودھ پلانے کی بجائے پانچ دفعہ دودھ پلانے سے حرمت کا حکم باقی رکھا گیا۔‘‘ (مسلم: ۳۵۹۷)
رسول اللہe نے اس مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے مزید فرمایا: ’’حرمت‘ ایک یا دو دفعہ دودھ پینے سے ثابت نہیں ہوتی۔‘‘ (ابوداؤد: ۲۰۶۳)
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث رضاعت کے لیے کم از کم پانچ دفعہ دودھ پینا ضروری ہے۔ اس سے کم یعنی ایک یا دو دفعہ دودھ پینے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔
صورت مسئولہ میں سائلہ کے بھائی کو اس کی پھوپھی نے صرف ایک مرتبہ دودھ پلایا ہے جیسا کہ اس نے خود صراحت کی ہے۔ اس سے حرمت رضاعت نہیں ہو گی۔ ایسے حالات میں پھوپھی کی بیٹی سے اس کا نکاح ہو سکتا ہے۔ واللہ اعلم!


No comments:

Post a Comment

Pages