بیوی کو ملازمت پر مجبور کرنا F20-14-03 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Saturday, August 15, 2020

بیوی کو ملازمت پر مجبور کرنا F20-14-03

احکام ومسائل، کتاب النکاح، بیوی کی ملازمت

بیوی کو ملازمت پر مجبور کرنا

O میں پڑھی لکھی خاتوں ہوں اور میرے خاوند مجھے ملازمت کرنے پر مجبور کرتے ہیں جبکہ وہ اچھے بھلے کاروباری انسان ہیں اور گھر کا نظام اچھی طرح چل رہا ہے۔ ایسے حالات میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟ وضاحت فرما دیں۔
P عورت کی طبیعت کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ گھر میں ٹھہرے اور بچوں کی تربیت کرے‘ اللہ تعالیٰ نے مالی ضرورت کو پورا کرنا خاوند کے ذمہ قرار دیا ہے۔ یہ بیوی کی قطعاً ذمہ داری نہیں کہ وہ گھر کی مالی ضروریات کو پورا کرنے کا اہتمام کرے اور اس سلسلہ میں وہ گھر سے باہر جائے۔
اللہ تعالیٰ نے رسول اللہe کی بیویوں کو حکم دیا ہے: ’’اور تم اپنے گھر میں ٹھہری رہو اور قدیم جاہلیت کے زمانہ کی طرح اپنے بناؤ سنگھار کا اظہار نہ کرو‘ نماز ادا کرتی رہو اور زکوٰۃ دیتی رہو‘ اللہ اور اس کے رسولe کی اطاعت کرتی رہو۔‘‘ (الاحزاب: ۳۳)
اگر کوئی عورت گھر سے باہر نکل کر ملازمت کرتی ہے جبکہ اسے قطعاً اس کی ضرورت نہیں تو اس میں بہت سی قباحتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سب سے بڑی قباحت یہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت کے لیے پورا وقت نہیں دے سکے گی۔ پھر غیر محرم مردوں سے میل جول ہو گا جو کہ عظیم فتنہ اور فساد ہے جس سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔
صورت مسئولہ میں خاوند صاحب حیثیت اور اچھا کاروباری انسان ہے اور گھر کا نظام احسن انداز سے چل رہا ہے ایسے حالات میں خاوند کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنی بیوی کو ملازمت کے لیے مجبور کرے۔ پھر گھر سے باہر جا کر ملازمت کرنے کے بہت سے مفاسد ہیں جن میں سے چند ایک کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں شریعت کے مطابق عمل کی توفیق دے۔ آمین!


No comments:

Post a Comment

Pages