بیویوں کے درمیان مساوات کرنا F20-14-02 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Saturday, August 15, 2020

بیویوں کے درمیان مساوات کرنا F20-14-02

احکام ومسائل، مساوات، تعدد ازدواج

بیویوں کے درمیان مساوات کرنا

O میرے شوہر نے دو شادیاں کی ہیں‘ لیکن وہ ہمارے درمیان مساوات سے کام نہیں لیتے۔ اخراجات کے سلسلہ میں بھی برابری کا سلوک نہیں کرتے۔ کیا ایسے حالات میں مجھے طلاق کا مطالبہ کرنا درست ہے؟!
P اللہ تعالیٰ نے انسان پر دوسری شادی کرنے پر عدل ومساوات کرنے کو فرض قرار دیا ہے۔ اسے چاہیے کہ وہ نان ونفقہ اور رہائش نیز ان کے ہاں رات بسر کرنے میں عدل وانصاف سے کام لے۔
اس کو پڑھیں:    پھوپھا سے پردہ کا حکم
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں سے نکاح کر کے ان میں عدل وانصاف نہیں کر سکو گے تو اور عورتوں سے جو بھی تمہیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کر لو۔ دو‘ دو تین‘ تین اور چار‘ چار‘ لیکن اگر تمہیں عدل وانصاف اور برابری نہ کر سکنے کا خدشہ ہو تو ایک ہی کافی ہے۔‘‘ (النساء)
اس آیت کے پیش نظر اگرکسی کی ایک سے زیادہ بیویاں ہوں تو ان کے درمیان مساوات کرنا ضروری ہے۔ اس کی خلاف ورزی پر سخت وعید ہے جیسا کہ سیدنا ابوہریرہt کا بیان ہے کہ رسول اللہ e نے فرمایا: ’’جس کی دو بیویاں ہوں اور وہ ان میں سے ایک کی طرف زیادہ میلان رکھتا ہو تو وہ قیامت کے دن ایسی حالت میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو فالج زدہ ہو گا۔‘‘ (ابوداؤد‘ النکاح: ۲۱۳۳)
حافظ ابن تیمیہa لکھتے ہیں: ’’رسول اللہe کی اقتداء کرتے ہوئے بیویوں کے درمیان نان ونفقہ‘ لباس اور رہائش وغیرہ میں عدل وانصاف سے کام لینا ضروری ہے کیونکہ رسول اللہe اپنی بیویوں کے درمیان نان ونفقہ اور تقسیم میں عدل وانصاف سے کام لیتے تھے۔‘‘ (مجموع الفتاویٰ: ج۳‘ ص ۲۶۹)
ان ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ خاوند پر واجب ہے کہ وہ اپنی بیویوں کے درمیان مساوات کرے‘ بصورت دیگر وہ سخت گنہگار ہے اور قیامت کے دن اس سے باز پرس ہو گی‘ تا ہم بیوی کو چاہیے کہ اگر وہ اس سلسلہ میں کوئی کوتاہی دیکھتی ہے تو اسے اچھے انداز سے وعظ ونصیحت کرے اور اس کے برے انجام سے خبردار کرے‘ اپنے گھر کو بچانے کی فکر کرنا چاہیے اور اگر بیوی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر سے کام لے اور اللہ تعالیٰ کی مدد اس کے شامل حال ہو گی اور قیامت کے دن اللہ کے ہاں اجر وثواب بھی ملے گا۔ واللہ اعلم!


No comments:

Post a Comment

Pages