اقامت کے بعد سنت فجر ادا کرنا F20-14-01 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Saturday, August 15, 2020

اقامت کے بعد سنت فجر ادا کرنا F20-14-01

احکام ومسائل، اقامت کے بعد سنت فجر، نماز، سنت

اقامت کے بعد سنت فجر ادا کرنا

O ہمارے ہاں اکثر دیکھا جاتا ہے کہ نماز فجر کی اقامت کے بعد بھی کچھ لوگ سنت فجر ادا کرتے رہتے ہیں‘ کیا اقامت کے بعد فجر کی دو سنتیں پڑھی جا سکتی ہیں؟ کتاب وسنت کی روشنی میں اس مسئلہ کی وضاحت کریں۔
P فرض نماز کے لیے جب اقامت کہی جائے تو کوئی دوسری نماز نہیں ہوتی۔ چنانچہ امام بخاریa نے ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے: ’’نماز کی اقامت کے بعد فرض نماز کے علاوہ اور کوئی نماز نہیں ہوتی۔‘‘ (بخاری‘ الاذان‘ باب نمبر ۳۰)
اس کو پڑھیں:    کرنسی میں نصاب زکوٰۃ
پھر اس عنوان کو ثابت کرنے کے لیے ایک حدیث پیش کی ہے کہ رسول اللہe نے ایک شخص کو دو رکعت نماز پڑھتے دیکھا جبکہ نماز کے لیے اقامت ہو چکی تھی۔ جب رسول اللہe نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں نے اس آدمی کو گھیر لیا۔ رسول اللہe نے اس شخص سے فرمایا: ’’کیا صبح کی چار رکعت ہیں؟ کیا صبح کی چار رکعت ہیں؟‘‘ (بخاری‘ الاذان: ۹۹۳)
امام بخاریa نے جو عنوان قائم کیا ہے یہ بھی ایک حدیث کے الفاظ ہیں جس کے مرفوع یا موقوف ہونے کے متعلق معمولی سا اختلاف تھا۔ اس لیے امام بخاری a نے اس حدیث کے متن میں بیان نہیں کیا بلکہ حسب عادت اسے عنوان کے لیے منتخب کیا ہے۔ چونکہ اس حدیث کا مضمون صحیح تھا اس لیے دیگر احادیث سے اس کی تائید فرمائی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب نماز کے لیے تکبیر ہو جائے تو ہر قسم کی نماز منع ہے خواہ سنت ہوں یا نوافل اور راتبہ ہوں یا غیر راتبہ۔
بعض اہل علم نے ایک ضعیف روایت کی بنیاد پر اقامت کے بعد فجر کی دو سنت ادا کرنے کی گنجائش پیدا کی ہے‘ وہ حدیث درج ذیل ہے: ’’جب نماز کی تکبیر ہو جائے تو فرض نماز کے علاوہ دوسری کوئی نماز نہیں ہوتی ہاں فجر کی دو سنتیں پڑھی جا سکتی ہیں۔‘‘ (بیہقی: ج۲‘ ص ۴۸۳)
اس حدیث کو مولانا احمد علی سہارنپوری نے حاشیہ بخاری میں نقل کر کے فجر کی اقامت کے بعد دو سنت فجر پڑھنے کا فتویٰ دیا ہے۔ (حاشیہ بخاری ج۱‘ ص ۹۱‘ طبع ہند)
حالانکہ امام بیہقی نے خود اس روایت کو بیان کرنے کے بعد لکھا ہے کہ اس حدیث میں مذکورہ اضافہ بالکل بے اصل اور بے بنیاد ہے۔ نیز اس کی سند میں حجاج بن نصر اور عباد بن کثیر نامی راوی ضعیف اور ناقابل اعتبار ہیں۔ اس کے برعکس امام بیہقی نے سیدنا ابوہریرہt سے مروی ایک روایت بایں الفاظ بیان کی ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا: ’’جب نماز فجر کی تکبیر ہو جائے تو دوسری کوئی نماز نہیں ہوتی۔‘‘ عرض کیا گیا‘ اللہ کے رسول! ایسے حالات میں فجر کی دو سنت پڑھنا بھی درست نہیں؟ تو آپe نے فرمایا: ’’ہاں تکبیر کے بعد فجر کی دو سنت پڑھنا بھی جائز نہیں۔‘‘ (بیہقی: ج۲‘ ص ۴۸۹)
اس کو پڑھیں:    صاع کا وزن اور اس کا حجم
اس کی سند میں اگرچہ مسلم بن خالد نامی راوی متکلم فیہ ہے لیکن امام ابن حبانa نے اسے ثقہ کہا ہے اور اپنی صحیح میں اسے قابل حجت قرار دیا ہے۔ حافظ ابن حجرa لکھتے ہیں: ’’اس روایت کو ابن عدی نے حسن سند کے ساتھ بیان کیا ہے۔‘‘ (فتح الباری: ج۲‘ ص ۱۹۴)
سیدنا عمرt اس شخص کو پیٹتے تھے جو نماز کی تکبیر ہو جانے کے بعد کسی دوسری نماز میں مشغول ہوتا۔ نیز سیدنا عبداللہ بن عمرw ایسے شخص کو کنکریاں مارتے تھے۔ (بیہقی: ج۲‘ ص ۴۸۳)
ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ تکبیر ہو جانے کے بعد فجر کی سنتیں ادا کرنا اور فرض نماز میں شمولیت نہ کرنا صحیح نہیں۔
واضح رہے کہ استاذ الاساتذہ سید محمد نذیر حسین محدث دہلویa نے اس سلسلہ میں صحیح بخاری کے حاشیہ نگار مولانا احمد علی سہارن پوریa کے نام ایک مکتوب لکھا تھا جس میں آپ نے مطالبہ کیا تھا کہ ثقات محققین کی کتاب سے اس اضافہ کی صحت کو ثابت کریں یا پھر اپنے موقف سے رجوع کر کے اپنے طلبہ کو مطلع کریں کہ یہ اضافہ مردود اور نا قابل عمل ہے۔ نیز اس کے مسنون ہونے کا عقیدہ باطل ہے۔
اس کو پڑھیں:    زرعی زکوٰۃ کے مسائل
لیکن انتہائی افسوس سے اس امر کا اظہار کیا جاتا ہے کہ مولانا سہارن پوریa نے حق واضح ہونے کے باوجود صحیح بخاری کے حاشیہ میں اس غلط بیانی کی اصلاح نہیں فرمائی۔ بلکہ اسے جوں کا توں برقرار رکھا اور آج تک ہمارے پاک وہند میں شائع ہونے والی صحیح بخاری میں شائع ہو رہا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
اس مکتوب کی تفصیل ہماری تالیف ’’ہدایۃ القاری شرح بخاری‘‘ میں مذکور حدیث بخاری کے تحت دیکھی جا سکتی ہے۔ واللہ المستعان!


No comments:

Post a Comment

Pages