قرآنی دعاؤں میں رد وبدل F10-20-06 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Saturday, February 8, 2020

قرآنی دعاؤں میں رد وبدل F10-20-06


قرآنی دعاؤں میں رد وبدل

O قرآن کریم میں بہت سی دعائیں منقول ہیں،کیا ان کی ضمیروں کو بدلا جاسکتا ہے یعنی واحد کو جمع او رجمع کو واحد کرنا جائز ہے؟ مثلاً قرآن میں ہے:’’رب زدنی علماً‘‘(طٰہٰ) کیا اسے اجتماعی طور پر ’’رب زدنا علماً‘‘ پڑھا  جا سکتا ہے؟
P قرآن و حدیث میں آنے والی دعاؤں میں اپنی طرف سے تبدیلی جائز نہیں ہے، کیونکہ ایسا کرنا حدِ اعتدال سے تجاوز ہے  جس کی احادیث میں ممانعت ہے۔ چنانچہ رسول اللہe کا ارشاد گرامی ہے:
’’عنقریب میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو پانی کے استعمال اور دعا کرنے میں حدِاعتدال سے تجاوز کریں گے۔‘‘ (ابو داؤد،الوتر: 1480)
سیدنا براء بن عازبt کو رسول اللہ eنے ایک دعا سکھائی جس میں یہ الفاظ تھے: [ونبیک الذی ارسلت] انہوں نے جب رسول اللہeکو یہ دعا یاد کرکے سنائی تو بایں الفاظ پڑھا: [ورسولک الذی ارسلت] یعنی انہوں نے ’’نبیک‘‘ کے بجائے ’’رسولک‘‘ پڑھ دیا، رسول اللہ eنے فرمایا کہ [ونبیک الذی ارسلت] کے الفاظ ہی یاد کرو۔ (صحیح بخاری،الوضو:247)
رسول اللہeنے بتائی ہوئی دعا میں ترمیم کو قبول نہ فرمایا،اس بناء پر ہمارے رحجان کے مطابق تذکیر و تانیث یا واحد و جمع کا اعتبار کرتے ہوئے ضمیروں کو بدلنا جائز نہیں ہے،اگر کوئی امام ہے تو اسے چاہیے کہ الفاظ وہی ادا کرے جو قرآن وحدیث میں ہیں،البتہ نیت جمع کی کرے یعنی الفاظ بدلنے کے بجائے مقتدی حضرات کو نیت میں شامل کرلے،بعض حضرات آیت کریمہ میں انی کنت من الظالمین میں انا کنا من الظا لمین بولنے کی تلقین کرتے ہیں‘ ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔صورت مسئولہ میں رب زدنی علماً کو رب زدنا علماً پڑھنا بھی محل نظر ہے،اگر مقتدی حضرات کو دعا کرتے وقت الفاظ جمع کے لانے ہیں تو درج ذیل دعا پڑھ لی جاء:
[اللہم انفعنا بما علمتنا وعلمنا ما ینفعنا وزدنا علماً]
’’اے اللہ!ہمیں جو تونے علم سکھایا ہے اسے ہمارے لئے نفع مند بنا اور ہمیں ایسا علم عطا فرما جو ہمیں نفع دے اور ہمارے علم میں اضافہ فرما۔‘‘
بہرحال ہمارے معزز ائمہ کرام کو چاہیے کہ وہ اس طرح کے حساس مسائل میں سمجھ داری سے کام لیا کریں،اللہ تعالیٰ بصیرت و دانائی سے ہمیں بہرہ ور کرے۔ (آمین)

No comments:

Post a Comment

Pages