سابقہ سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنا F10-20-02 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Saturday, February 8, 2020

سابقہ سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنا F10-20-02


سابقہ سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنا

O ایک آدمی نے عرصہ تیس سال سے زکوٰۃ ادا نہیں کی، اب اسے ہوش آیا ہے اور اپنے کیے پرنادم ہے، کیا اسے سابقہ سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنا ہوگی یا توبہ کرنے سے ہی گناہ معاف ہوجائے گا؟
P ہمارے نزدیک مذکورہ سوال کی دو صورتیں ممکن ہیں، اور دونوں کا جواب الگ الگ ہے:
1       اگر اسے زکوٰۃ کی فرضیت کا علم تھا اور وہ جانتا تھا کہ میرے پاس اتنا مال موجود ہے جس میں سے زکوٰۃ دینا ضروری ہے لیکن وہ دانستہ طور پر اسکی ادائیگی سے پہلو تہی کرتا رہا تو اس صورت میں اسے سابقہ سالوں کا حساب لگا کر زکوٰۃ ادا کرنا ہوگی اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے جرم کی اللہ تعالیٰ سے معافی بھی طلب کرے۔
2       اگر اسے زکوٰۃ کی فرضیت کا علم نہ تھا اور وہ نہ جانتا تھا کہ میرے پاس اس قدر مال ہے کہ اس میں سے زکوٰۃ ادا کرنا ضروری ہے، اس صورت میں اسے سابقہ سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنا ضروری نہیں ہے کیونکہ یہ ’’جرم‘‘ لاعلمی اور جہالت میں ہوا ہے، امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے معاف فرمائے گا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’اور ہماری سنت نہیں کہ رسول بھیجنے سے پہلے ہی عذاب کرنے لگیں۔‘‘ (بنی اسرائیل:۱۵)
اس آیت کریمہ میں جہالت کو بطور عذر پیش کیا گیا ہے،اس بناء پر امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص سے مواخذہ نہیں کریں گے جس نے لاعلمی کی وجہ سے فریضہ زکوٰۃ نظر انداز کئے رکھا۔ (واللہ اعلم)

No comments:

Post a Comment

Pages