سجدہ کی کیفیت F10-18-03 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Saturday, February 8, 2020

سجدہ کی کیفیت F10-18-03


سجدہ کی کیفیت

O سجدہ کرنے کا کیا طریقہ ہے؟ کیا سجدہ کرتے وقت ہاتھ پہلے رکھے جائیں یا گھٹنے؟ نیز مرد اور عورت کے سجدہ میں کوئی فرق ہے تو اس کی وضاحت کریں۔
P سجدے کی حالت میں بندہ اپنے رب کے بہت قریب ہوتا ہے جیسا کہ رسول اللہe کا ارشاد گرامی ہے:
’’بندہ اپنے رب کے بہت زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے لہٰذا تم سجدہ کی حالت میں بکثرت دعا کیا کرو۔‘‘ (صحیح مسلم، الصلوٰۃ: ۴۸۲)
اس لئے نمازی کو چاہیے کہ سجدہ کو نہایت آداب اور سنت طریقہ کے مطابق ادا کرے‘ اس کی کیفیت احادیث کے مطابق درج ذیل ہے:
\       سجدہ کیلئے جھکتے وقت پہلے دونوں ہاتھ زمین پر رکھے جائیں، رسول اللہe کا ارشاد گرامی ہے: ’’جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اونٹ کی طرح نہ بیٹھے اور اپنے ہاتھ گھٹنوں سے پہلے رکھے۔‘‘ (ابوداؤد، الصلوٰۃ: ۸۴۰)
\       سجدہ کرتے وقت سات اعضاء کو زمین پر لگانا چاہیے، چہرہ، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں۔‘‘ (صحیح مسلم، الصلوٰۃ: ۴۹۱) چہرے میں ناک اور پیشانی دونوں شامل ہیں۔ (صحیح بخاری، الاذان: ۸۱۲)
\       دوران سجدہ دونوں ہاتھ زمین پر اور کہنیاں زمین سے اٹھی ہوئی ہوں جیسا کہ رسول اللہe نے سیدنا براء بن عازب﷜ سے فرمایا تھا: ’’جب تم سجدہ کرو تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کو زمین پر رکھو اور اپنی دونوں کہنیوں کو زمین سے اونچا رکھو۔‘‘ (مسند امام احمد ص ۲۸۳ ج ۴)
\       دوران سجدہ قدموں کی ایڑیاں ملی ہوئی ہوں اور پاؤں کی انگلیوں کے رخ قبلہ کی طرف اور قدم کھڑے ہوں۔ (مستدرک حاکم ص ۲۲۸ ج ۱)، (صحیح بخاری، الاذان: ۸۲۸)
\       سجدے میں دونوں ہاتھ پہلوؤں سے دور ہوں، سینہ‘ پیٹ اور رانیں زمین سے اونچی ہوں نیز پیٹ کو رانوں سے اور رانوں کو پنڈلیوں سے جدا رکھا جائے۔ (صحیح بخاری، الاذان: ۸۲۸)
\       سجدہ میں ہاتھوں کی انگلیوں کو باہم ملا کر رکھا جائے، حدیث میں ہے کہ رسول اللہ e جب سجدہ کرتے تو اپنی انگلیاں ملا لیتے تھے۔ (مستدرک حاکم ص ۲۴۴ ج ۱)
\       سجدہ کرتے وقت پیشانی ننگی ہو ہاں بوقت ضرورت کپڑے وغیرہ پرسجدہ کرنا جائز ہے جیسا کہ حضرت انس﷜ بیان کرتے ہیں کہ جب گرمی کی وجہ سے زمین پر پیشانی رکھنا مشکل ہوتا تو ہم اپنا کپڑا بچھا کر اس پر سجدہ کر لیتے تھے۔ (بخاری، الصلوٰۃ: ۳۸۵)
مرد اور عورت کے سجدہ میں کوئی فرق نہیں ہے، جو لوگ اس میں فرق کرتے ہیں کہ عورت زمین سے چمٹ کر سجدہ کرے، ان کا موقف محل نظر ہے، کتاب و سنت میں اس تفریق کی کوئی دلیل نہیں ہے، عورت کو چاہیے کہ وہ مرد کی طرح مذکورہ بالا طریقہ کے مطابق سجدہ کرے۔ (واللہ اعلم)

No comments:

Post a Comment

Pages