پھوپھا سے پردہ کا حکم F10-17-07 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Saturday, February 8, 2020

پھوپھا سے پردہ کا حکم F10-17-07


پھوپھا سے پردہ کا حکم

O میں ابھی چھوٹا تھا کہ میری بڑی ہمشیرہ کی شادی ہوگئی ،اب ماشاء اللہ میری شادی ہوچکی ہے اور میری بچیاں بھی جوان ہیں، کیا میری بچیاں ہمارے بہنوئی سے پردہ کرنے کی پابند ہیں جبکہ وہ انہیں اپنی اولاد کی طرح دیکھتے ہیں، اس سلسلہ میں ہماری رہنمائی کریں۔
P پردے کا مسئلہ بڑی نزاکت کا حامل ہے لیکن ہم لوگ اس سلسلہ میں بہت غفلت کا شکار ہیں، ہمارے ہاں عام طور پر ممانی اور چچی، خاوند کے بھتیجے یا بھانجے سے پردہ نہیں کرتیں، اسی طرح پھوپھا اور خالو سے پردہ نہیں کیاجاتا۔ حالانکہ یہ تمام رشتہ دار محرم نہیں ہیں کہ ان سے پردہ نہ کیا جائے، محبت و پیار اپنی جگہ پر ہے لیکن پردے کے سلسلہ میں کسی قسم کی لچک کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔
جن رشتہ داروں سے پردہ نہیں کرنا چاہیے ان کی فہرست قرآن کریم میں موجود ہے ۔ان کے علاوہ دیگر تمام رشتہ دار غیر محرم ہیں۔ جب بچی جوان ہوجائے تو اسے چاہیے کہ وہ غیر محرم رشتے داروں سے پردہ کرے ۔ عزت و ناموس کی حفاظت کا تقا ضا یہی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دے۔ (آمین)

No comments:

Post a Comment

Pages