دورانِ سال کسی ضرورتمند کو زکوٰۃ دینا F10-17-04 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Saturday, February 8, 2020

دورانِ سال کسی ضرورتمند کو زکوٰۃ دینا F10-17-04


دورانِ سال کسی ضرورتمند کو زکوٰۃ دینا

O ہم عام طور پر ماہ رمضان میں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں لیکن بعض اوقات کو ئی ضرورت مند ہمارے پاس آتا ہے جو تعاون کا حقدار ہوتا ہے، کیا ہم مالِ زکوٰۃ سے اسکی مدد کرسکتے ہیں؟ پھر ماہ رمضان میں ادا شدہ زکوٰۃ کو حساب میں لے آئیں؟
P زکوٰۃ کے وجوب کیلئے تین چیزوں کا ہونا ضروری ہے،ایک یہ کہ وہ مال ضروریات سے زائد ہو،دوسرے یہ کہ وہ نصاب کو پہنچ جائے اور تیسرے یہ کہ اس پر سال گزر جائے،اگر دوران سال کوئی محتاج یا ضرورت مند آجائے جسے مال وغیرہ کی ضرورت ہے تو مال زکوٰۃ سے اسکا تعاون کیا جا سکتا ہے، اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے جیسا کہ سیدنا علی﷜ سے مروی ہے کہ سیدنا عباس﷜ نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ زکوٰۃ اپنے وقت مقررہ سے پہلے دی جاسکتی ہے یا نہیں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں قبل از وقت زکوٰۃ دینے کی اجازت دے دی۔ (ابو داؤد الزکوٰۃ:1430)
امام ابو داؤد نے اس حدیث پر بایں الفاظ عنوان قائم کیاہے۔’’قبل از وقت زکوٰۃ ادا کرنے کا بیان‘‘
اصحاب خیر کو چاہیے کہ وہ مال زکوٰۃ کے علاوہ فقراء اور مساکین کا تعاون کرتے رہا کریں،اللہ تعالیٰ ان کی دعاؤں کی وجہ سے مال وا سباب میں برکت عطا فرمائے گا۔


No comments:

Post a Comment

Pages