گرہن لگنے پر نماز میں جہری قراءت F10-17-03 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Saturday, February 8, 2020

گرہن لگنے پر نماز میں جہری قراءت F10-17-03


گرہن لگنے پر نماز میں جہری قراءت

O جب سورج یا چاند گرہن لگتا ہے تو اس کی نماز میں قراءت آہستہ ہو یا با آواز بلند؟ احادیث میں اس کے متعلق روایات ملتی ہیں؟ وضاحت فرمائیں۔
P نماز کسوف باجماعت ادا ہونی چاہیے اور اس میں بآواز بلند قراءت کی جائے جیسا کہ سیدہ عائشہr سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز کسوف میں با آواز بلند قراءت فرمائی۔ (صحیح بخاری الکسوف:1065)
اس حدیث کے پیش نظر نماز کسوف میں اونچی آواز سے قراءت کی جائے۔ اگرچہ کچھ اہل علم بایں طور فرق کرتے ہیں کہ سورج گرہن کے موقع پر آہستہ اور چاند گرہن کے وقت جہری قراءت کی جائے،لیکن یہ فرق احادیث سے ثابت نہیں۔ البتہ ایک حدیث میں اشارہ ملتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز کسوف میں آہستہ قراءت کی تھی۔ چنانچہ سیدنا سمرہ﷜ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سورج گرہن کے موقع پر ہمیں نماز پڑھائی تو ہمیں آپ کی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ (ترمذی الاطعمہ:562)
لیکن یہ حدیث اپنے مفہوم میں صریح نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے واقعی آہستہ قراءت کی تھی ممکن ہے دور کھڑے ہونے کی وجہ سے آپ کی قراءت سنائی نہ دیتی ہو ۔ پھر یہ روایت ہی ضعیف ہے۔ جیسا کہ علامہ البانی ؒ نے اس روایت کو ضعیف ابی داؤد رقم 253 میں درج کیاہے۔
بہر حال یہ حقیقت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے زندگی میں صرف ایک مرتبہ سورج گرہن لگنے پر نماز کسوف پڑھائی تھی اور بخاری کی روایت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ آپ ﷺنے بآواز بلند قراءت کی تھی اور اس کے مقابلہ میں جو حدیث پیش کی جاتی ہے وہ ضعیف ہے اور اپنے مدعا میں وہ صریح بھی نہیں۔  تو نتیجہ یہ نکلا کہ نماز کسوف میں قراءت بلند آواز سے کی جائے۔ (واللہ علم)

No comments:

Post a Comment

Pages