بیوی اور بیٹی کا ترکہ سے حصہ F10-04-03 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Friday, January 31, 2020

بیوی اور بیٹی کا ترکہ سے حصہ F10-04-03


بیوی اور بیٹی کا ترکہ سے حصہ

Oایک شخص کی دو بیویاں ہیں، ایک تو اس کی زندگی میں فوت ہو گئی، اس کے بطن سے پیدا ہونے والی ایک بیٹی زندہ ہے، اس کی دوسری بیوی لاولد ہے، اب وہ آدمی فوت ہو چکا ہے اور اس کا ایک بھائی بھی زندہ ہے، جائیداد کی تقسیم کیسے کی جائے گی،کیا بیوی کو لاولد ہونے کی وجہ سے چوتھا حصہ ملے گا؟؟ (عبدالغفور۔ پتوکی)
Pعلم فرائض میں جو حصص میں کمی بیشی ہوتی ہے وہ میت کے ساتھ پسماندگان کے تعلق کی وجہ سے ہے، یعنی خاوند جو فوت ہوا ہے اگر وہ صاحب اولاد تھا تو اس کی بیوی یا بیویوں کو آٹھواں حصہ ملتا ہے اور اگر وہ لاولد ہے تو ایک بیوی یا متعدد بیویوں کو چوتھا حصہ دیا جاتا ہے، اس صورت میں بیوی کے صاحب اولاد یا لاولد ہونے سے ان کے حصص پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے، اسی طرح جو وارث متوفیٰ کی زندگی میں فوت ہو جائے وہ بھی ترکہ سے کچھ حصہ نہیں پاتا ہے، اس وضاحت کے بعد صورت مسئولہ میں جائیداد کی تقسیم حسب ذیل طریقہ سے ہوگی۔
\ میت کی بیٹی کو نصف ترکہ ملے گا، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اگر ایک بیٹی ہے تو اسے ترکہ سے نصف ملے گا۔‘‘ (النساء: ۱۱)
\ لا ولد بیوی کو کل جائیداد سے آٹھواں حصہ دیا جائے گا، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اگر تمہاری اولاد ہے تو بیویوں کو ترکہ سے آٹھواں حصہ دیا جائے۔‘‘ (النساء: ۱۲)
\ مذکورہ حصص نکالنے کے بعد جو جائیداد باقی بچے وہ اس کے بھائی کو دی جائے گی جیسا کہ حدیث میں ہے: ’’مقررہ حصہ لینے والے ورثاء کو ان کے حصے دئیے جائیں، جو باقی بچے وہ میت کے قریبی مذکر رشتہ دار کو دیا جائے۔‘‘ (صحیح بخاری، الفرائض: ۶۷۳۵)
مذکورہ سوال میں مرنے والے کا قریبی مذکر رشتہ دار اس کا بھائی ہے۔
\ جو بیوی، خاوند کی وفات سے پہلے فوت ہو چکی ہے، اسے کچھ بھی نہیں ملے گا بلکہ وہ محروم ہے۔ آسانی کے پیش نظر کل جائیداد کے چوبیس حصے کر لئے جائیں، ان میں نصف یعنی بارہ حصے لڑکی کیلئے ہیں اور کل جائیداد کا آٹھواں حصہ یعنی تین حصے اس کی لا ولد بیوی کو دئیے جائیں، بارہ اور تین کے مجموعہ کو چوبیس سے منہا کر کے باقی نو حصے بھائی کو مل جائیں گے، اگر میت کے ذمہ قرض ہے یا اس نے وصیت کی ہے تو قرض کی ادائیگی اور وصیت کی اجراء تقسیم سے پہلے ہو گا جب کہ وصیت کسی صورت میں ایک تہائی سے زیادہ نہ ہو، مذکورہ تفصیل کے مطابق جائیداد کو تقسیم کیا جائے۔ (واللہ اعلم)

No comments:

Post a Comment

Pages