سیاہ لباس پہننا اور ٹھیکے پر کام کرنا F10-04-02 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Friday, January 31, 2020

سیاہ لباس پہننا اور ٹھیکے پر کام کرنا F10-04-02


سیاہ لباس پہننا اور ٹھیکے پر کام کرنا

O کیا سیاہ لباس پہنا جا سکتا ہے، کیا ٹھیکے پر کام کرنا جائز ہے؟ ان سوالات کا جواب درکار ہے، کتاب و سنت کی روشنی میں وضاحت کریں؟
P سیاہ لباس پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ اس ممانعت کے متعلق کوئی صحیح حدیث مروی نہیں ہے بلکہ بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہe نے خود سیاہ لباس زیب تن فرمایا تھا، حضرت عائشہr کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہe کیلئے ایک چادر کو سیاہ رنگ دیا، آپe نے اسے زیب تن فرمایا مگر جب اس میں پسینہ آیا تو آپe نے اس میں اون کی بساند محسوس کی، پھر آپe نے اسے اتار دیا کیونکہ آپe کو عمدہ خوشبو ہی پسند آتی تھی۔ (ابوداؤد، اللباس: ۴۰۷۴)
بلکہ بعض روایات میں اس کی مزید تفصیل ہے کہ جب آپe نے سیاہ لباس زیب تن فرمایا تو آپe کا سفید رنگ اور جبہ کا سیاہ رنگ ایک عجیب سماں پیدا کر رہا تھا، حضرت عائشہr فرماتی ہیں کہ میں کبھی آپe کے سفید مکھڑے کو دیکھتی اور کبھی جبہ کی سیاہ رنگت کو دیکھتی پھر پسینہ کی وجہ سے ناگوار سی ہوا آنے لگی تو آپe نے اسے اتار پھینکا۔ (مسند امام احمد ص ۱۳۲ ج ۶)
رسول اللہe نے حضرت ام خالدr کو خود اپنے دست مبارک سے سیاہ چادر پہنائی پھر خود ہی اس کی تحسین فرمائی۔ (بخاری اللباس، ۵۸۲۳)
رسول اللہe جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپe نے سیاہ رنگ کی پگڑی پہن رکھی تھی، یہ فتح مکہ کے موقع کی بات ہے۔ (ابوداؤد، اللباس: ۴۰۷۶)
البتہ محرم کے ایام میں یا کسی مصیبت کے وقت سیاہ رنگ کا لباس پہننے سے احتراز کرنا چاہیے کیونکہ سیاہ رنگ اور سیاہ لباس کو ایک مخصوص گروہ نے ان ایام میں اظہار سوگ کی علامت قرار دے دیا ہے جب کہ اظہار سوگ کے اس طریقے یا علامت کی کوئی شرعی بنیاد نہیں ہے۔  (واللہ اعلم)
P فقہاء کی اصطلاح میں ٹھیکے پر کام کرنے کو اجارہ کہا جاتا ہے اور ٹھیکہ ہر اس کام میں جائز ہے جس سے شریعت نے منع نہ کیا ہو، نیز ٹھیکہ کا معاوضہ اور اس کی مدت کا معلوم ہونا ضروری ہے، صحابہ کرام]، مزدوری پر کام کرتے تھے نیز رسول اللہe نے فرمایا کہ تمام انبیاء o بکریاں چراتے رہے، صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے بھی بکریاں چرائی ہیں؟ فرمایا: ہاں! میں بھی اہل مکہ کی بکریاں چند قیراط کے عوض چرایا کرتا تھا۔ (صحیح بخاری، الاجارہ: ۲۲۶۲)
رسول اللہe نے ہجرت کے سفر میں ایک آدمی کو راستہ کی راہنمائی کیلئے ’’اجرت‘‘ پر رکھا تھا، حالانکہ وہ شخص مشرک تھا۔ (صحیح بخاری، الاجارہ: ۲۲۶۳)
یہ حدیث بھی ٹھیکہ کے جائز ہونے کی دلیل ہے، امام بخاریؒ نے ایک بڑا عنوان ’’کتاب الاجارہ‘‘ قائم کیا ہے، جس میں ٹھیکہ کے متعدد پہلو اور ان کی مشروعیت بیان کی ہے، اس لئے ٹھیکے پر کام کرنا جائز ہے بشرطیکہ معاوضہ اور کام کی مدت معلوم ہو۔ (واللہ اعلم)

No comments:

Post a Comment

Pages