ساس کو بوسہ F10-03-07 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Friday, January 31, 2020

ساس کو بوسہ F10-03-07


ساس کو بوسہ

O کیا کوئی آدمی اپنی ساس کا بوسہ لے سکتا ہے، وضاحت کریں؟
P مرد کی ساس کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’تمہاری بیویوں کی مائیں بھی تم پر حرام کر دی گئی ہیں۔‘‘ (النساء: ۲۳)
اس آیت کی رو سے ساس اپنے داماد سے پردہ نہیں کرے گی اور داماد کو اپنی ساس کا چہرہ دیکھنے کی اجازت ہے کیونکہ وہ بھی حقیقی ماں کے درجہ میں ہے۔ اس کی عزت و تکریم بالکل اس طرح کی جائے جس طرح انسان اپنی حقیقی ماں کا اکرام واحترام کرتا ہے۔
لیکن آج کل کے پرنٹ میڈیا نے ان رشتوں کو پامال کر دیا ہے، بعض بدبخت ایسے بھی ہیں جو اپنی ساس سے منہ کالا کرنے سے باز نہیں آتے، اس میں ساس کی خواہش بھی شامل ہوتی ہے، ایسے واقعات اخبارات میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔
اس بناء پر ہمارا رجحان یہ ہے کہ داماد اپنی ساس کا چہرہ تو دیکھ سکتا ہے اور اگر جذبات پر کنٹرول کرنے کی ہمت ہو تو اپنی ساس کا بوسہ بھی لے سکتا ہے،  ہاں اگر وہ بوڑھی ہے تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں۔ اگر وہ جوان ہے اور جذبات پر کنٹرول نہ رکھنے کا اندیشہ ہو تو بوسہ وغیرہ سے اجتناب کرنا چاہیے۔ (واللہ اعلم)

No comments:

Post a Comment

Pages