خاوند کے رضاعی باپ سے پردہ؟ F10-03-06 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Friday, January 31, 2020

خاوند کے رضاعی باپ سے پردہ؟ F10-03-06


خاوند کے رضاعی باپ سے پردہ؟

O میرے خاوند نے ایک عورت کا دودھ پیا تھا، اس لئے وہ اس کی رضاعی ماں ہے اور اس کا شوہر اس کا رضاعی باپ ہے، کیا میرے لئے اپنے خاوند کے رضاعی باپ سے پردہ کرنا ضروری ہے یا حقیقی باپ کی طرح اس سے پردہ نہیں کرنا ہوگا، قرآن و حدیث کے مطابق اس کی وضاحت کریں؟
P صورت مسئولہ میں خاوند کا رضاعی باپ، بیوی کا رضاعی سسر ہے، قرآن و حدیث کے مطابق حقیقی سسر سے بہو پردہ نہیں کرے گی کیونکہ حدیث میں ہے: ’’جیسے خون ملنے سے حرمت ہوتی ہے ویسے ہی دودھ پینے سے بھی ثابت ہو جاتی ہے۔‘‘ (بخاری، النکاح: ۵۰۹۹)
عورت کا حقیقی سسر بہو پر نسبی اعتبار سے حرام نہیں ہے بلکہ وہ تو شادی کی وجہ سے حرام ہوا ہے، اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے: ’’تمہارے حقیقی بیٹوں کی بیویاں بھی تم پر حرام ہیں۔‘‘ (النساء: ۲۷)
رضاعی بیٹا، مرد کا صلبی اور سگا بیٹا نہیں ہے، اس بناء پر اگر عورت کے خاوند کا کوئی رضاعی باپ ہو تو وہ عورت اس سے پردہ کرے گی اور اس کے سامنے اپنا چہرہ ننگا نہیں کرے گی کیونکہ اس کے ساتھ اس کا کوئی سسرالی رشتہ قائم نہیں ہوا ہے۔  (واللہ اعلم)

No comments:

Post a Comment

Pages