جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے مارا گیا F10-03-01 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Friday, January 31, 2020

جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے مارا گیا F10-03-01


جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے مارا گیا

O ہمارے گھر میں ڈاکو آ گئے، میرے بیٹے نے ہمارا اور ہمارے مال کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جان اللہ کے حوالے کر دی، اسے گولی لگی وہ اسی وقت اللہ کو پیارا ہو گیا، ایسی موت کے متعلق شرعی طور پر کیا حکم ہے، قرآن و حدیث کے مطابق فتویٰ دیں؟
P کاش کہ ہمارا ملک امن کا گہوارہ ہوتا لیکن ہر طرف جنگل کا قانون ہے، یہاں نہ کسی کی جان محفوظ ہے اور نہ ہی کسی کے مال کی حفاظت کی جاتی ہے، ڈاکو جب چاہتے ہیں جسے چاہتے ہیں لوٹ لیتے ہیں، افسوس یہ ہے کہ ہمارے محافظ ان کے ساتھ ملے ہوتے ہیں، ایسے حالات میں نہایت حکمت عملی کے ساتھ کوئی اقدام کرنا چاہیے۔ قرآن و حدیث کے مطابق اپنی جان، اپنے مال، اہل و عیال اور عزت و دین کے دفاع میں مارے جانا شہادت کی موت ہے جیسا کہ رسول اللہe کا ارشاد گرامی ہے:
’’جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کر دیا گیا وہ شہید ہے، جو اپنے اہل و عیال کے دفاع میں قتل کر دیا گیا وہ بھی شہید ہے، جو اپنا دین بچاتے ہوئے مارا گیا وہ بھی شہید ہے اور جو اپنی جان بچاتے ہوئے قتل کر دیا گیا وہ بھی شہید ہے۔‘‘ (ابودائود، السنۃ: ۴۷۷۲)
فقہی اصطلاح میں اس قسم کی شہادت کو شہادت صغریٰ کہتے ہیں، البتہ شہادت کبریٰ یہ ہے کہ جو مرد مجاہد میدان کار زار میں اللہ کے دین کو بلند کرنے کا عزم لے کر اپنی جان اللہ کے حوالے کر دے، صورت مسئولہ میں نوجوان نے اہل خانہ اور اہل خانہ کے مال کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جان اللہ کے سپرد کی ہے، حدیث بالا کے مطابق وہ شہید ہے لیکن اس قسم کی شہادت اس انسان کیلئے کار آمد ہے جس کا عقیدہ صحیح ہو، اگر عقیدہ خراب ہے تو شہادت کبریٰ بھی اس کے کام نہیں آ سکے گی، اللہ تعالیٰ ہماری اور ہمارے اموال کی حفاظت فرمائے۔ آمین!


No comments:

Post a Comment

Pages