سحری کی دعوت F27-16-01 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Thursday, May 14, 2020

سحری کی دعوت F27-16-01

احکام ومسائل، سحری کی دعوت، رمضان، روزہ

سحری کی دعوت

O ہماری مسجد کی انتظامیہ نے رات کے وقت مسجد میں قیام کرنے والوں کے لیے سحری کے کھانے کا بندوبست کیا ہے تا کہ اللہ کے ہاں اجر وثواب لیا جائے لیکن مقامی علماء نے اسے بدعت قرار دیا ہے اور انتظامیہ کو مجبور کر کے سحری کے بندوبست سے روک دیا ہے‘ کیا سحری کی دعوت دینا بدعت ہے؟
P رمضان المبارک میں ہر عمل خیر کا اجر وثواب دو چند کر دیا جاتا ہے‘ چنانچہ احادیث میں اس کی صراحت ہے‘ حدیث میں افطاری کرانے کی بہت فضیلت بیان ہوئی ہے‘ سیدنا زید بن خالد جہنیt کا بیان ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا: ’’جس نے کسی روزہ دار کا روزہ کھلوایا اس کے لیے روزہ دار کی مثل اجر ہے‘ بغیر اس کے کہ روزہ دار کے اجر سے کچھ کمی ہو۔‘‘ (ترمذی‘ الصوم: ۸۰۷)
یہ فتویٰ پڑھیں:    رمضان کا شیڈول
اسی طرح کسی روزہ دار کی سحری کا بندوبست کرنا بھی اللہ کے ہاں اجر وثواب کا باعث ہے۔ چنانچہ سیدنا عرباض بن ساریہt بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہe کو رمضان المبارک میں سحری کی دعوت دیتے سنا‘ آپe فرما رہے تھے: ’’آؤ! اس مبارک کھانے کی طرف۔‘‘ (ابوداود‘ الصیام: ۲۳۴۴)
اسی طرح سیدنا خالد بن ہمدانt کا بیان ہے کہ رسول اللہe نے ایک آدمی کو سحری کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا: ’’اس بابرکت کھانے یعنی سحری کے لیے آؤ۔‘‘ (نسائی‘ الصیام: ۲۱۶۷)
امام نسائیؒ نے اس طرح کی دیگر احادیث پر بایں الفاظ عنوان قائم کیا ہے: ’’سحری کی دعوت دینا۔‘‘ (نسائی‘ الصیام: باب ۲۵)
سیدنا انس t سے روایت ہے کہ رسول اللہe نے سحری کے وقت مجھے فرمایا: ’’اے انس! میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں‘ سحری کا بندوبست کرو اور مجھے کچھ کھلاؤ۔‘‘ سیدنا انسt کہتے ہیں کہ میں کھجوریں اور پانی کا برتن لے کر آیا‘ رسول اللہe نے فرمایا: ’’اے انس! کوئی آدمی دیکھو جو میرے ساتھ سحری کھائے۔‘‘ چنانچہ میں سیدنا زید بن ثابت کو بلا لایا تو انہوں نے رسول اللہe کے ہمراہ سحری کھائی۔ (مسند امام احمد: ج۳‘ ص ۱۹۷)
یہ فتویٰ پڑھیں:    اذانِ تہجد یا اذانِ سحر
ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ افطاری کی دعوت کی طرح سحری کی دعوت دینا بھی مسنون ہے۔  صورت مسئولہ میں جن علماء نے سحری کے کھانے کی دعوت کو بدعت قرار دیا ہے ان کا یہ اقدام انتہائی محل نظر ہے۔ واللہ اعلم!

No comments:

Post a Comment

Pages