بھول کر کھانے والے کو یاد دلانا؟! F25-16-04 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Thursday, May 14, 2020

بھول کر کھانے والے کو یاد دلانا؟! F25-16-04

رمضان، روزہ، بھول کر کھانا

بھول کر کھانے والے کو یاد دلانا؟!

O روزہ دار اگر بھول کر کھا لے تو کیا اس کا روزہ صحیح ہے؟ سنا ہے کہ اگر روزے دار بھول کر کوئی چیز کھانے یا پینے لگے تو اسے منع نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ کھلا پلا رہا ہے۔ کیا یہ بات صحیح ہے؟
P روزہ کی حالت میں بھول کر کھانے پینے سے روزہ خراب نہیں ہوتا لیکن جب اسے یاد آئے تو فوراً رک جانا چاہیے اور منہ میں جو کچھ ہو اسے بھی پھینک دینا چاہیے۔ سیدنا ابوہریرہt سے مروی ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا: ’’جو روزہ دار بھول کر کھا پی لے تو اسے اپنا روزہ پورا کرنا چاہیے کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ نے کھلایا پلایا ہے۔‘‘ (بخاری‘ الصوم: ۱۹۳۳)
ویسے بھی بھول کر ممنوع فعل کے ارتکاب پر انسان سے مؤاخذہ نہیں ہوتا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اے ہمارے پروردگار! اگر ہم سے بھول یا چوک ہو جائے تو اس پر ہمارا مؤاخذہ نہ کرنا۔‘‘ (البقرہ: ۲۸۶)
حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا: ’’میں نے ایسا ہی کیا۔‘‘ (مسلم‘ الایمان: ۱۲۶)
لیکن جو شخص روزے دار کو دیکھے کہ وہ کھا پی رہا ہے تو اس پر واجب ہے کہ اسے یاد دلائے کیونکہ روزے کی حالت میں کھانا ایک برائی ہے جس سے روکنا ضروری ہے۔ اگرچہ حالت نسیان کی وجہ سے اس پر مؤاخذہ نہیں ہو گا لیکن دیکھنے والے کے لیے کوئی عذر مانع نہیں۔ لہٰذا وہ اسے یاد دلائے اور اسے منع کرے۔ حدیث  میں ہے: ’’تم میں سے جو شخص برائی دیکھے تو اسے ہاتھ سے مٹائے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے کہے اور اس کی بھی طاقت نہ ہو تو دل سے برا سمجھے اور یہ کمزور ترین ایمان کی علامت ہے۔‘‘ (مسلم‘ الایمان: ۴۹)
بہرحال بھول کر کھانے پینے سے روزہ متاثر نہیں ہوتا۔ البتہ دیکھنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اسے یاد دلائے اور کھانے پینے سے منع کرے۔ واللہ اعلم!

No comments:

Post a Comment

Pages