سحری کھانا F19-19-04 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Monday, May 18, 2020

سحری کھانا F19-19-04

احکام ومسائل، سحری کھانا، رمضان، سحری،، روزہ

سحری کھانا

O ہمارے ہاں کچھ لوگ رات دیر تک بیدار رہتے ہیں اور صبح بروقت نہیں اٹھتے پھر وہ کلی کر کے پانی پی کر روزہ رکھ لیتے ہیں۔ کیا سحری کھائے بغیر روزہ رکھنا اور اسے معمول بنا لینا کتاب وسنت کے اعتبار سے درست ہے؟!
P روزے کے کچھ آداب ہیں۔ ان میں سے ایک سحری کھانا بھی ہے۔ چنانچہ رسول اللہe کا ارشاد گرامی ہے: ’’سحری کھاؤ کیونکہ اس کے کھانے میں برکت ہے۔‘‘ (بخاری‘ الصوم: ۱۹۲)
یہ فتویٰ پڑھیں:    عشرۂ رمضان کی تقسیم
اس حدیث میں رسول اللہe نے سحری کے متعلق حکم دیا ہے اور آپe کا حکم عام طور پر وجوب کے لیے ہوتا ہے لیکن اس مقام پر وجوب کے لیے نہیں کیونکہ رسول اللہe اور آپ کے صحابہ کرام] نے وصال فرمایا‘ وصال میں سحری نہیں ہوتی غالباً اسی لیے امام بخاریa نے اس حدیث پر بایں الفاظ عنوان قائم کیا ہے: ’’سحری کھانا باعث برکت ہے لیکن واجب نہیں۔‘‘ (بخاری‘ الصوم‘ باب: ۲۰)
سحری میں برکت کے کئی پہلو ہیں:
\   سنت کی اتباع
\   مخالفت اہل کتاب
\   عبادت کے لیے طاقت کا باعث
\   اللہ تعالیٰ سے اجر وثواب کا ذریعہ
سحری کی اہمیت کے متعلق رسول اللہe کا ارشاد گرامی ہے: ’’سحری باعث برکت ہے‘ اسے مت ترک کرو‘ اگرچہ پانی کے ایک گھونٹ سے ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ سحری کرنے والوں پر رحمت بھیجتا ہے اور فرشتے اس کے لیے دعا کرتے ہیں۔‘‘ (مسند امام احمد: ج۳‘ ص ۴۴)
یہ فتویٰ پڑھیں:    قطبین میں افطار
سوال میں جو صورتحال ذکر کی گئی ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے کہ سحری ترک کرنے کی عادت بنا لی جائے۔ اس سے روزہ تو ہو جاتا ہے لیکن رسول اللہe کی مخالفت ہوتی ہے اور سحری سے محرومی بھی ہے جسے رسول اللہe نے باعث برکت قرار دیا ہے۔ واللہ اعلم!


No comments:

Post a Comment

Pages