نفلی روزے کی نیت F19-19-01 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Monday, May 18, 2020

نفلی روزے کی نیت F19-19-01

احکام ومسائل، نفلی روزے کی نیت، رمضان

نفلی روزے کی نیت

O اگر کسی نے نفلی روزہ رکھنا ہو تو اس کی نیت کب کرنا چاہیے؟ یا وہ نیت کے بغیر بھی رکھا جا سکتا ہے؟ قرآن وحدیث میں اس کے متعلق کیا ہدایات ہیں؟!
P نیت کے بغیر تو کوئی عمل بھی معتبر نہیں ہوتا جیسا کہ رسول اللہe کا ارشاد گرامی ہے: ’’اعمال کا دار ومدار نیتوں پر ہے۔‘‘ (بخاری‘ بدء الوحی: ۱)
یہ فتویٰ پڑھیں:    شب قدر کی علامتیں
البتہ فرض روزے کی نیت‘ رات ہی سے کرنا ضروری ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے رسول اللہe نے اس سلسلہ میں امت کو ہدایت دی ہے کہ ’’جس نے فجر یعنی صبح صادق سے پہلے روزے کی پختہ نیت نہ کی اس کا روزہ نہیں۔‘‘ (ابوداؤد‘ الصوم: ۲۴۵۴)
البتہ نفلی روزے کی نیت زوال آفتاب سے پہلے بھی کی جا سکتی ہے۔ جیسا کہ سیدہ عائشہr فرماتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہe میرے ہاں تشریف لائے اور فرمایا ’’کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟‘‘ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس اس وقت کچھ نہیں تو آپe نے فرمایا: ’’تب میں روزہ دار ہوں۔‘‘ (مسلم‘ الصیام: ۲۷۱۴)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عام روزے کی نیت موقع پر بھی کی جا سکتی ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ روزہ رکھنے والے نے صبح کے بعد کچھ کھایا‘ پیا نہ ہو۔ امام بخاریa نے اس سلسلہ میں صحابہ کرام] کے کچھ آثار بھی پیش کیے ہیں۔ چنانچہ سیدہ ام الدرداء کہتی ہیں کہ سیدنا ابوالدرداءt نے فرمایا: ’’کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟‘‘ اگر ہم جواب دیتے کہ نہیں تو فرماتے‘ تب میرا آج روزہ ہے۔‘‘ (مصنف ابن ابی شیبہ: ج۳‘ ص ۳۰)
سیدنا ابوطلحہt سے بھی اس قسم کی روایت مروی ہے۔ (مصنف عبدالرزاق: ج۴‘ ص ۲۷۳) سیدنا ابوہریرہt سے بھی اس قسم کا عمل مروی ہے۔ (شرح معانی الآثار: ج۲‘ ص ۵۶)
یہ فتویٰ پڑھیں:    شب قدر کی حیثیت
سیدنا ابوحذیفہt سے بھی اس طرح کا عمل کتب حدیث میں موجود ہے۔ (مصنف عبدالرزاق ج۲‘ ص ۲۷۴)
بہرحال فرض روزے کی نیت رات کے وقت کی جائے جبکہ نفل روزے کی نیت کل نیت طلوع آفتاب کے بعد بھی کی جا سکتی ہے۔ واللہ اعلم!


No comments:

Post a Comment

Pages