وصال کے روزے کی کیفیت F10-32-05 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Wednesday, May 6, 2020

وصال کے روزے کی کیفیت F10-32-05


وصال کے روزے کی کیفیت

O وصال کے روزے کیا ہوتے ہیں، احادیث میں ان کی ممانعت کس وجہ سے ہے، حالانکہ رسول اللہe خود یہ روزے رکھتے تھے؟؟
P وصال سے مراد یہ ہے کہ آدمی ارادی طور پر دو یا اس سے زیادہ دنوں تک اپنا روزہ افطار نہ کرے بلکہ مسلسل روزے رکھتا چلا جائے۔ رات کو کچھ کھائے اور نہ سحری کے وقت کچھ تناول کرے، شریعت میں ایسے روزے رکھنے کی ممانعت ہے۔ چنانچہ حضرت ابن عمرw سے مروی ہے کہ رسول اللہe نے وصال کے روزوں سے منع فرمایا ہے۔ (بخاری، الصوم: ۱۹۶۲)
ایک روایت کے مطابق رسول اللہe نے وصال سے منع کرتے ہوئے فرمایا: ’’یہ عمل تو عیسائی کرتے ہیں۔‘‘ (صحیح بخاری، الصوم: ۱۹۶۱)
البتہ رسول اللہe خود وصال کے روزے رکھا کرتے تھے لیکن یہ عمل آپ کے ساتھ خاص تھا، امت کیلئے ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔ جیسا کہ حضرت ابوہریرہt سے مروی ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا: ’’تم میں میرے جیسا کون ہے؟ میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا پروردگار مجھے کھلاتا، پلاتا رہتا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری، الصوم: ۱۹۶۵)
بہرحال شریعت میں وصال کے روزے رکھنے کی ممانعت ہے اور اسے نصاریٰ کا عمل بتایا گیا ہے۔


No comments:

Post a Comment

Pages