روزوں کی نذر پوری کرنے سے پہلے فوت ہو جائے تو؟ F10-32-04 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Wednesday, May 6, 2020

روزوں کی نذر پوری کرنے سے پہلے فوت ہو جائے تو؟ F10-32-04


روزوں کی نذر پوری کرنے سے پہلے فوت ہو جائے تو؟!

O میری بہن نے نذر مانی تھی کہ اگر والدہ صحت یاب ہو گئی تو وہ ایک ہفتہ کے روزے رکھے گی، اللہ تعالیٰ نے میری والدہ کو صحت سے نوازا، لیکن میری بہن نے نذر کے روزے نہیں رکھے، اب وہ فوت ہو چکی ہے، کیا ہمیں اس کے روزے رکھنا ہوں گے، قرآن و حدیث میں اس کے متعلق کیا حکم ہے، وضاحت کریں؟
P اگر کوئی شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمے نذر کے روزے ہوں تو اس کی طرف سے اس کا ولی روزے رکھے گا جیسا کہ ایک حدیث میں ہے:
’’رسول اللہe کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ! میری والدہ فوت ہو گئی ہے اور اس کے ذمے نذر کے روزے تھے تو کیا میں اس کی طرف سے روزے رکھوں؟ آپ نے فرمایا اگر تیری ماں پر قرض ہوتا تو کیا تو نے ادا کرنا تھا تا کہ اس کی طرف سے ادا ہو جاتا؟ اس عورت نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ! آپؐ نے فرمایا: پھر تو اپنی ماں کی طرف سے روزے رکھ۔‘‘ (بخاری، الصوم: ۱۹۵۳)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ میت کی طرف سے نذر کے روزے اس کے ولی کو رکھنے چاہئیں لیکن اگر اصلی فرض روزے اس کے ذمے ہوں تو انہیں رکھنا ضروری نہیں، کیونکہ نذر ماننا اس کے ذمے نہ تھا بلکہ اس عورت نے خود ہی اپنے ذمے ضروری قرار دے لیا تھا جو فرض کا درجہ حاصل کر چکی تھی اس وجہ سے رسول اللہe نے اسے فرض سے تشبیہہ دی۔ فرض روزے شروع ہی سے اس کے ذمے تھے اس میں نیابت صحیح نہیں ہے، جس طرح کلمہ شہادت اور نماز وغیرہ میں نیابت صحیح نہیں ہے۔ امام ابن تیمیہؒ نے بھی اسی موقف کو اختیار کیا ہے۔ (مجموع الفتاوی)


No comments:

Post a Comment

Pages