کرونا وائرس اور حفاظتی تدابیر F20-13-02 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Sunday, April 12, 2020

کرونا وائرس اور حفاظتی تدابیر F20-13-02


کرونا وائرس اور حفاظتی تدابیر

O ہمارے میڈیا نے کرونا وائرس کے متعلق اس قدر پروپیگنڈا کیا ہے کہ ہر شخص پریشان ہے۔ ہمارے دین اسلام نے ایسی وبائی امراض کے متعلق کیا ہدایات دی ہیں؟ اس سلسلہ میں اگر کوئی حفاظتی تدابیر ہیں تو ان کے متعلق آگاہ کریں۔
P وبائی امراض کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ رسول اللہe جب ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لائے تو اس وقت اس کی آب وہوا انتہائی خراب اور وبائی تھی۔ جیسا کہ سیدہ عائشہr کا بیان ہے‘ آپr فرماتی ہیں: ’’جب ہم مدینہ طیبہ آئے تو وہ اللہ کی زمینوں میں سب سے زیادہ وبائی زمین تھی اور اس کی وادی بطحان میں بدبودار اور بد مزہ پانی بہتا تھا۔‘‘ (بخاری‘ فضائل المدینہ: ۱۸۸۹)
اس کو پڑھیں:    عورت کا خاوند سے ظِہار
مسلمان یہاں آکر وبائی امراض کا شکار ہو گئے تھے تو رسول اللہe کی دعاء کے نتیجہ میں مدینہ طیبہ کی فضا خوشگوار ہوئی اور اس کی وبائی امراض جحفہ منتقل ہو گئی جو مدینہ طیبہ سے کچھ میل کے فاصلے پر تھا۔ رسول اللہe کا ارشاد گرامی ہے: ’’میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک سیاہ عورت‘ جس کے بال پراگندہ تھے‘ وہ مدینہ طیبہ سے نکلی اور مہیعہ (جحفہ) جا کر اس نے پڑاؤ کیا۔ میں نے اس کی تعبیر یہ کی کہ مدینہ طیبہ کی وبا کو جحفہ کی طرف منتقل کر دیا گیا ہے۔‘‘ (بخاری‘ التعبیر: ۷۰۳۸)
اس کے علاوہ تاریخ اسلام میں پانچ مرتبہ طاعون کی وبا پھوٹی اور کثرت اموات ہوئیں‘ جن کی تفصیل یہ ہے:
\ طاعون شیرویہ          \ طاعون عمواس          \ طاعون کوفہ \ طاعون جارف اور      \ طاعون اشراف
ان میں طاعون جارف تو بہت مشہور ہے جو سیدنا عبداللہ بن زبیرw کے عہد میں پھوٹی اور تین دن میں ستر ہزار مسلمان لقمہ اجل بنے۔ سیدنا انس بن مالکt بھی اسی دوران فوت ہوئے۔ حافظ ابن حجرa لکھتے ہیں کہ تاریخی طور پر اسلامی دنیا میں پھیلنے والی طواعین عموماً سردیوں کے آخر اور موسم بہار کے آغاز میں زور پکڑتی ہیں اور گرمیوں کے آتے ہی دم توڑ دیتی ہیں۔(بذل الماعون فی فضل الطاعون: ۳۶۹) … ہمارے ہاں کرونا وائرس بھی اسی موسم میں عام ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے ہمیں محفوظ رکھے۔ آمین!
اس کو پڑھیں:    واقعۂ حرہ کیا ہے؟!
اس سلسلہ میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ آئیے اب ہم اس کا جائزہ لیتے ہیں:
1       سب سے پہلے ہم مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہونا چاہیے کہ یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے اور یہ ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور جو بھی تمہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ اس وجہ سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا اور وہ بہت سی چیزوں سے در گذر کر جاتا ہے۔‘‘ (الشوریٰ: ۳۰) … اور اس عالمگیر مصیبت کو اللہ تعالیٰ نے دور کرنا ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور اگر تجھے اللہ کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اسے کوئی دور کرنے والا نہیں۔‘‘ (یونس: ۱۰۷)
2       ہمیں اس کے متعلق اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے‘ اس کے احکام کی پیروی اور پیارے پیغمبر کی ہدایات کے مطابق خود کو ڈھالنا چاہیے۔ ان امراض کی غرض وغایت یہی ہے کہ ہم اللہ کی طرف لوٹ آئیں۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’خشکی اور سمندر میں فساد ظاہر ہو گیا‘ اس کی وجہ سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمایا تا کہ وہ انہیں اس چیز کا مزہ چکھائے جو انہوں نے کیا ہے تا کہ وہ باز آجائیں۔‘‘ (الروم: ۴۱)
3       ہمیں اپنی نظافت اور طہارت نیز صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا چاہیے۔ مسلمان جب پانچ وقت نماز کے لیے وضوء کرتا ہے تو اس کے گناہ جھڑ جاتے ہیں اور جسمانی بیماریوں سے بھی طہارت ہو جاتی ہے‘ جن اقوام میں اس مرض کا آغاز ہوا ہے وہ انتہائی گندے اور غلیظ ہیں۔
4       صبح وشام کے اذکار کی پابندی کرنا چاہیے‘ ان سے اللہ کی حفاظت نصیب ہوتی ہے۔ خاص طور پر درج ذیل دعاؤں کا التزام کرنا چاہیے:
\              بِسْمِ اللّٰہِ الَّذِیْ لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِہٖ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآءِ وَهُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ
\              اَللّٰہُمَّ اِنِّیۤ اَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْبَرْصِ وَالْجُذَامِ وَالْجُنُوْنِ وَمِنْ سَیِّءِ الْاَسْقَامِ
\              لَاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ
\              لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ
5       قیام اللیل یعنی نماز تہجد کا اہتمام بھی جسمانی اور روحانی بیماریوں کا بہترین علاج ہے۔

No comments:

Post a Comment

Pages