سیاہ لباس کا استعمال F10-26-05 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Saturday, February 29, 2020

سیاہ لباس کا استعمال F10-26-05


سیاہ لباس کا استعمال

O کیا سیاہ لباس اہل جہنم کا لباس ہے اور مرد حضرات اسے استعمال نہیں کر سکتے؟ اس کے متعلق وضاحت درکار ہے، قرآن و حدیث کے مطابق راہنمائی فرمائیں۔
P لباس کے متعلق عمومی اسلامی ہدایت یہ ہے کہ اسراف و تکبر سے اجتناب کرتے ہوئے جو میسر ہو پہن لیا جائے اس میں چنداں حرج نہیں ہے۔ البتہ دین اسلام میں سفید لباس کو پسند کیا گیا ہے جو وقار کی علامت ہے۔ جیسا کہ رسول اللہﷺ کا ارشاد گرامی ہے:
’’سفید لباس پہنو یہ زیادہ پاک صاف ہوتا ہے اور اپنے مردوں کو اسی میں کفن دو۔‘‘ (ترمذی، الادب: ۲۸۱۰)
سیاہ رنگ کا لباس، اس کی ممانعت کے متعلق کوئی صحیح حدیث مروی نہیں ہے یا سیاہ لباس اہل جہنم کا ہے۔ اس کے متعلق بھی تلاش بسیار ہمیں کوئی حدیث نہیں ملی۔ بلکہ محدثین کرام نے سیاہ لباس پہننے کے متعلق عنوانات قائم کئے ہیں۔ چنانچہ امام بخاری نے ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے: ’’سیاہ چادر پہننے کا بیان۔‘‘ (صحیح بخاری، اللباس باب نمبر ۲۱)
پھر آپ نے اس کے تحت سیدہ ام خالدؓ کے متعلق ایک حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہﷺ نے خود اپنے دست مبارک سے انہیں سیاہ چادر پہنائی اور اس کی تحسین فرمائی۔ (بخاری‘ اللباس: ۵۸۳)
سیدنا انسt بیان کرتے ہیں کہ میں نے خود رسول اللہﷺ کو سیاہ رنگ کی چادر زیب تن کئے ہوئے دیکھا تھا۔ (صحیح بخاری‘ اللباس: ۵۸۲۴)
ان احادیث سے امام بخاری کے رجحان کا پتہ چلتا ہے کہ وہ اس کے جواز کے قائل ہیں۔ امام ابوداؤدؒ نے ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے: ’’سیاہ رنگ کے لباس کا بیان۔‘‘ (ابودائود، اللباس باب نمبر ۱۹)
پھر آپ نے اسے ثابت کرنے کیلئے سیدہ عائشہ سے مروی ایک حدیث بیان کی ہے کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کیلئے ایک چادر کو سیاہ رنگ سے رنگ دیا جسے آپ نے زیب تن فرمایا۔ (ابوداؤد، اللباس: ۴۰۷۴)
بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ سیدہ عائشہ نے رسول اللہﷺ کیلئے سیاہ رنگ کا جبہ تیار کیا تھا جسے آپ نے پہنا۔ (مسند امام احمد ص ۲۵۰ ج ۶)
بعض روایات میں اس کی مزید تفصیل ہے کہ جب رسول اللہﷺ نے اس سیاہ لباس کو زیب تن فرمایا تو آپﷺ کا سفید رنگ اور جبہ کا سیاہ رنگ ایک عجیب سماں پیدا کر رہا تھا۔ (مسند امام احمد ص ۱۳۲ ج ۶)
پھر جب پسینہ آنے کی وجہ سے اس سے ناگوار بساند آنے لگی تو آپ نے اسے اتار دیا۔ (ابوداؤد، اللباس: ۴۰۷۴)
رسول اللہﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر سیاہ پگڑی بھی باندھی تھی۔ (صحیح مسلم‘ الحج: ۱۳۵۹)
لیکن ایام محرم یا کسی مصیبت کے وقت سیاہ رنگ کا لباس پہننے سے احتراز کرنا چاہیے‘ کیونکہ ہمارے ہاں ایک مخصوص طبقہ نے سیاہ رنگ اور سیاہ لباس کو اظہار سوگ کی علامت بنا لیا ہے جسے وہ ماتمی لباس کہتے ہیں۔ (واللہ اعلم)

No comments:

Post a Comment

Pages