بیوہ‘ تین بیٹے اور چار بیٹیوں کی وراثت F10-26-03 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Saturday, February 29, 2020

بیوہ‘ تین بیٹے اور چار بیٹیوں کی وراثت F10-26-03


بیوہ‘ تین بیٹے اور چار بیٹیوں کی وراثت

O ہمارے والد محترم جب فوت ہوئے تو ان کی بیوہ‘ تین بیٹے اور چار بیٹیاں موجود تھیں، ترکہ میں انہوں نے ایک مکان چھوڑا جس کی مالیت تقریباً دو کروڑ ہے، اس ترکہ کو پس ماندگان میں کیسے تقسیم کیا جائے گا؟
P مرحوم کی اولاد موجود ہے‘ اس لئے بیوہ کو کل ترکہ سے آٹھواں حصہ دیا جائے گا‘ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’اگر تمہاری اولاد ہو تو بیویوں کو تمہارے ترکہ کا آٹھواں حصہ ملے گا۔‘‘ (النساء: ۱۲)
بیوہ کو حصہ دینے کے بعد باقی ترکہ کو اولاد میں اس طرح تقسیم کیا جائے کہ ایک لڑکے کو لڑکی سے دوگنا حصہ ملے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے۔‘‘ (النساء: ۱۱)
مرحوم کے ترکہ مکان کی مالیت دو کروڑ ہے اس کا آٹھواں حصہ پچیس لاکھ بیوہ کو دیا جائے۔ باقی ایک کروڑ پچھتر لاکھ کو تین بیٹوں اور چار بیٹیوں میں تقسیم کرنے کیلئے باقی ماندہ ترکہ کے دس حصے کئے جائیں، ایک حصہ سترہ لاکھ پچاس ہزار فی لڑکی اور پینتیس لاکھ فی لڑکے کے حساب سے اسے تقسیم کر دیا جائے۔ (واللہ اعلم)

No comments:

Post a Comment

Pages