کیا احتلام سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟ F10-26-02 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Saturday, February 29, 2020

کیا احتلام سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟ F10-26-02


کیا احتلام سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

O احتلام کی صورت میں روزہ ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟ نیز بتائیں کہ احتلام ہونے سے غسل کرنا ضروری ہے یا متاثرہ جگہ کا دھو لینا ہی کافی ہے؟
P احتلام ہونے کی صورت میں روزہ نہیں ٹوٹتا کیونکہ قرآن و سنت میں جن اشیاء سے روزہ ٹوٹنے کا ذکر ہے، احتلام ان میں نہیں ہے۔ شارع﷤ نے اسے مفسد روزہ قرار نہیں دیا ہے۔ البتہ احتلام ہونے سے صرف متاثرہ جگہ دھونا ہی نہیں بلکہ غسل کرنا چاہیے۔ جیسا کہ سیدہ عائشہ سے مروی ہے، آپ نے فرمایا کہ رسول اللہﷺ سے ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا گیا جو تری کو تو دیکھتا ہے لیکن اسے احتلام یاد نہیں پڑتا تو آپﷺ نے فرمایا: ’’وہ غسل کرے گا۔‘‘ پھر ایک ایسے شخص کے متعلق سوال ہوا جسے اتنا تو معلوم ہے کہ اسے احتلام ہوا ہے لیکن وہ تری نہیں پاتا، رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’اس کے ذمے کوئی غسل نہیں ہے۔‘‘ (ابوداؤد، الطہارۃ: ۲۳۶)
اسی طرح سیدہ ام سلیم نے رسول اللہﷺ سے سوال کیا کہ جب عورت کو احتلام ہو جائے تو کیا اس پر غسل فرض ہے؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’ہاں فرض ہے جب وہ پانی دیکھے۔‘‘ (صحیح بخاری، الغسل: ۲۸۲)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ احتلام کی صورت میں اگر وہ تری دیکھے تو غسل کرنا ضروری ہے، متاثرہ جگہ دھونے سے کام نہیں چلے گا۔ (واللہ اعلم)

No comments:

Post a Comment

Pages