خریداری بڑھانے کیلئے ڈاکٹروں سے ادویات تجویز کروانا F10-24-03 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Saturday, February 22, 2020

خریداری بڑھانے کیلئے ڈاکٹروں سے ادویات تجویز کروانا F10-24-03


خریداری بڑھانے کیلئے ڈاکٹروں سے ادویات تجویز کروانا

O میں ایک کمپنی میں میڈیکل ریپ کے طور پر کام کرتا ہوں‘ میرے شعبہ میں کچھ کمپنیاں ڈاکٹر حضرات کو خطیر رقم دیتی ہیں تا کہ وہ ان کی تیار کردہ دوائی مریضوں کو لکھ کر دے‘ کیا اپنی خریداری بڑھانے کیلئے ڈاکٹروں کو بھاری رقم پیش کرنا جائز ہے؟ اگر ناجائز ہے تو ایسی کمپنی میں ملازمت کرنا حلال ہے؟ کتاب و سنت کی روشنی میں وضاحت کریں۔
P ڈاکٹر حضرات کا شعبہ خدمت خلق کا ذریعہ اور باعزت وسیلہ کسب معاش ہے۔ لیکن افسوس کہ اس میں ہوس زر اور جلب مال کی بہتات نظر آتی ہے‘ بہت کم ڈاکٹر ایسے ہیں جو مریض سے ہمدردی رکھتے ہوں اور اس کی صحت و سلامتی کیلئے ان کے دل دھڑکتے ہوں‘ اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو مریض کی صحت کے بجائے اس کی جیب پر نظر رکھتے ہیں۔ لوگوں سے پیسے بٹورنے کیلئے ان حضرات کے ہاں کئی ایک مراحل ہیں جن کی تفصیل حسب ذیل ہے:
\       سب سے پہلا مرحلہ مشورہ فیس کا ہے‘ اس کیلئے پہلے ٹائم لینا پڑتا ہے پھر اپنے نمبر کا انتظار کرنا پڑتا ہے‘ ان کے ہاں مشورہ فیس تین طرح کی ہے:
1       کلینک میں مشورہ فیس،
2       گھر جا کر مریض دیکھنے کی مشورہ فیس،
3       ایمرجنسی مشورہ فیس
\       دوسرا مرحلہ ٹیسٹ رپورٹ کا ہے، مریض کو مختلف قسم کے ٹیکے لکھ دئیے جاتے ہیں اور مخصوص لیبارٹری سے ٹیسٹ کرانے کی تلقین کی جاتی ہے‘ جتنے مریض لیبارٹری پر جائیں گے‘ اسی حساب سے شام کے وقت ڈاکٹر صاحب کا کمیشن باعزت طریقہ سے گھر پہنچ جاتا ہے۔
\       تیسرا مرحلہ دوائی لکھ کر دینے کا ہے‘ ادویات تیار کرنے والی بڑی بڑی کمپنیاں، ان سے رابطہ کرتی ہیں اور انہیں خطیر رقم یا بہترین ہوٹل میں قیام و طعام اور سیر و تفریح کی پیشکش کرتی ہیں تا کہ ڈاکٹر صاحب ان کی تیار کردہ ادویات مریضوں کو لکھ کر دیں۔
\       چوتھا مرحلہ اپنے پاس سے دوائی دینے اور ڈرپ لگانے کا ہے‘ مختلف کمپنیوں کی طرف سے بطور نمونہ ادویات ان کے ہاں موجود ہوتی ہیں‘ جن پر لکھا ہوتا ہے کہ ان کی خرید و فروخت ممنوع ہے اس کے باوجود ان کی قیمت وصول کر کے جیب میں ڈال لی جاتی ہے۔
\       پانچواں اور آخری مرحلہ آپریشن کا ہے، مریض آپریشن میں لیٹا ہوتا ہے دوسری طرف لواحقین کی دوڑ لگائی جاتی ہے کہ فلاں دوائی لائو، فلاں ٹیکے کی ضرورت ہے‘ اس قسم کی اکثر ادویات دوبارہ میڈیکل سٹور پر پہنچ جاتی ہیں‘ بہرحال ہمارے معاشرہ میں یہ پیشہ کالی بھیڑوں کی وجہ سے خاصا بدنام ہو چکا ہے، حالانکہ رسول اللہﷺ کا ارشاد گرامی ہے:
’’تم میں سے جو شخص اپنے بھائی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے تو وہ اسے ضرور فائدہ پہنچائے۔‘‘ (صحیح مسلم، اسلام: ۵۷۳۱)
ہمارے رجحان کے مطابق میڈیکل کمپنیاں جو ڈاکٹر حضرات کو رقم یا سیر و تفریح کی پیشکش کرتی ہیں‘ یہ ایک رشوت ہے جو ان کی خریداری بڑھانے کیلئے پیش کی جاتی ہے‘ ڈاکٹر حضرات بھی اس نمک کو حلال کرنے کیلئے ایسی ادویات لکھ دیتے ہیں جن کی مریض کو قطعاً ضرورت نہیں ہوتی ہے جب ڈاکٹر مریض سے مشورہ فیس وصول کرتا ہے تو اسے مریض سے ہمدردی کرنا چاہیے لیکن ایسا نہیں ہوتا‘ اس طرح کی پیشکش ظاہر میں تو تحفہ معلوم ہوتی ہے لیکن درحقیقت رشوت کی ایک بھیانک صورت ہے جس سے رسول اللہe نے منع فرمایا ہے‘ میڈیکل ریپ کے طور پر کام کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے لیکن عام طور پر اس قسم کی پیشکش اپنے کارندوں کے ذریعے کی جاتی ہیں‘ اگر اس سے اپنے دامن کو محفوظ رکھا جا سکتا ہو تو میڈیکل کمپنی میں ریپ کے طور پر کام کرنے میں چنداں حرج نہیں ہے۔ (واللہ اعلم)

No comments:

Post a Comment

Pages