مرزائی کو مسجد میں لانا F10-22-01 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Saturday, February 22, 2020

مرزائی کو مسجد میں لانا F10-22-01


مرزائی کو مسجد میں لانا

O کیا کسی مرزائی کو وعظ و نصیحت سنانے کیلئے مسجد میں لایا جا سکتا ہے، اسی طرح جمعہ المبارک کے دن اسے خطبہ سنانے کیلئے مسجد میں لانا شرعاً کیا حیثیت رکھتا ہے؟ اس سے مقصود اسے راہ راست پر لانا ہے۔
P  کسی بھی غیر مسلم کو وعظ و نصیحت کیلئے مسجد میں آنے کی دعوت دی جا سکتی ہے، ممکن ہے کہ اس طرح اسے توبہ اور قبولِ اسلام کی توفیق مل جائے، قرآن کریم میں اس کا واضح اشارہ موجود ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’اگر مشرکوں میں سے کوئی تجھ سے پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دے دو تا آنکہ وہ اللہ کا کلام سن لے پھر اسے اپنی جائے امن تک پہنچا دو۔‘‘ (التوبہ: ۶)
اس مقام پر مشرک کو پناہ دینے کا مقصد یہ ہے کہ وہ اللہ کی باتیں سن لے اور اسے اسلام کو سمجھنے کا موقع مل جائے، اسی طرح اگر مرزائی مسجد میں آنے کی خواہش رکھتا ہے تو اسے موقع دینا چاہیے‘ اور موقع کی مناسبت سے ایسا درس یا خطبہ دیا جائے جس سے وہ مطمئن ہو سکے‘ جس آیت کریمہ میں مشرکین کو پلید کہا گیا ہے وہ عقائد و اعمال کی نجاست کی وجہ سے انہیں نجس قرار دیا گیا ہے‘ ویسے بھی وہاں مسجد حرام میں داخلے کی پابندی کا ذکر ہے، امام بخاریؒ نے اپنی صحیح میں ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے: ’’مشرک انسان کا مسجد میں داخل ہونا۔‘‘ (صحیح بخاری، الصلوٰۃ باب :۸۲)
پھر انہوں نے اس عنوان کو ثابت کرنے کیلئے ایک حدیث پیش کی ہے، جسے ابوہریرہt سے بیان کیا ہے:
’’رسول اللہe نے ایک مختصر سا دستہ نجد کی طرف روانہ فرمایا وہ لوگ قبیلہ بنو حنیفہ کا ایک آدمی پکڑ لائے جسے ثمامہ بن اثال کہا جاتا تھا، اسے مسجد کے ستون کے ساتھ باندھ دیا گیا۔‘‘ (صحیح بخاری، الصلوٰۃ: ۴۶۹)
اسی طرح رسول اللہe نے نجران کے عیسائیوں کو بھی مسجد میں ٹھہرایا تھا، نیز ایک مرتبہ وفد ثقیف، رسول اللہe کے پاس آیا اور وہ لوگ مشرک تھے، رسول اللہe نے انہیں مسجد نبوی میں ہی ٹھہرایا تھا۔ (مسند امام احمد ص ۳۴۳ ج ۶)
بہرحال اگر وعظ و نصیحت اور تبلیغ مقصود ہو تو مرزائی کو خطبہ جمعہ سننے کی دعوت دی جا سکتی ہے، اور اس کا مسجد میں آنا اور خطبہ جمعہ سننا قابل مؤاخذہ نہیں ہے۔ (واللہ اعلم)

No comments:

Post a Comment

Pages