میت کو غسل دینے کیلئے غسل کرنا F10-21-02 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Saturday, February 22, 2020

میت کو غسل دینے کیلئے غسل کرنا F10-21-02


میت کو غسل دینے کیلئے غسل کرنا

O میت کو غسل دینے والے کیلئے نہانا ضروری کیوں ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کی وضاحت کریں۔
P میت کو غسل دینا بہت بڑی فضیلت ہے جیسا کہ رسول اللہe کا ارشاد گرامی ہے:
’’جس نے کسی مسلمان کو غسل دیا اور اس کے عیب کو چھپایا اللہ تعالیٰ اسے چالیس مرتبہ معاف کر دیتا ہے۔‘‘ (مستدرک حاکم ص ۳۵۴ ج ۱)
لیکن اس پروانہ مغفرت کیلئے دو شرائط ہیں:
\       اگر دوران غسل کوئی ناپسندیدہ بات سامنے آئے تو اسے چھپائے اور کسی سے بیان نہ کرے جیسا کہ حدیث میں اس کی وضاحت ہے۔
\       یہ کام محض اللہ کو راضی کرنے کیلئے کرے‘ کسی قسم کا دنیوی مفاد پیش نظر نہ ہو‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ اسی کام کو شرف قبولیت بخشا ہے جو صرف اسکی رضا کیلئے ہو۔
حدیث میں اس امر کی وضاحت ہے کہ جو آدمی میت کو غسل دے وہ خود بھی غسل کرے، رسول اللہe کا ارشاد گرامی ہے:
’’جو شخص کسی میت کو نہلائے وہ غسل کرے اور جو اسے اٹھائے وہ وضو کرے۔‘‘ (ابوداؤد، الجنائز: ۳۱۶۱)
اس حدیث کے ظاہر الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ میت کو نہلانے والے کیلئے غسل کرنا ضروری ہے لیکن دیگر قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عمل مستحب ہے واجب نہیں۔ بلکہ امام ابودائود لکھتے ہیں کہ یہ حکم منسوخ ہے، امام احمد بن حنبلؒ سے اس کے متعلق سوال ہوا تو آپ نے فرمایا کہ اسے غسل کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ وضوء ہی کافی ہے تاہم دیگر احادیث اور صحابہ کرام کے عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ امر استحباب ہے کیونکہ ممکن ہے کہ نہلاتے وقت کوئی ایسی چیز لگ گئی ہو جس کا دور کرنا ضروری ہے‘ بلکہ اس سلسلہ میں رسول اللہe سے صراحت مروی ہے کہ آپ نے فرمایا:
’’جب تم میت کو غسل دو تو تم پر غسل ضروری نہیں کیونکہ تمہارے مردے نجس نہیں ہوتے‘ اپنے ہاتھ دھولو یہی کافی ہے۔‘‘ (مستدرک حاکم ص ۳۸۶ ج ۱)
حضرت عبداللہ بن عمرt فرماتے ہیں کہ ہم میت کو غسل دیا کرتے تھے‘ اس کے بعد کوئی غسل کر لیتا اور کوئی نہیں کرتا تھا۔ (تاریخ بغداد ص ۴۲۴ ج ۵)
ان احادیث و آثار کے پیش نظر میت کو غسل دینے والے کیلئے ضروری نہیں کہ وہ خود بھی غسل کرے البتہ بہتر ہے کہ وہ غسل کر لے تا کہ شکوک و شبہات دور ہو جائیں۔ واللہ اعلم


No comments:

Post a Comment

Pages