اولاد کیلئے کرایہ پر رحم لینا F10-21-01 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Saturday, February 22, 2020

اولاد کیلئے کرایہ پر رحم لینا F10-21-01


اولاد کیلئے کرایہ پر رحم لینا

O میں جرمنی میں رہائش پذیر ہوں، میری بیوی کے رحم میں کوئی خرابی ہے، جس کی وجہ سے استقرار حمل نہیں ہوتا، مجھے کچھ دوستوں نے مشورہ دیا ہے کہ ہم میاں بیوی کے نطفہ امشاج کو کسی تیسری عورت کے رحم میں رکھ کر صاحب اولاد ہو سکتے ہیں‘ ہمارے ہاں اس طرح کی عورتیں عام دستیاب ہیں جو اپنا پیٹ کرایہ پر دیتی ہیں۔ اس طرح اولاد حاصل کرنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ قرآن و حدیث کے مطابق ہمیں آپ کے جواب کا انتظار رہے گا۔
Pسوال میں ذکر کردہ صورت حال جدید میڈیکل کی ترقی‘ مادہ پرستی اور حصول زر کے برگ و بار ہیں، یہ وبا ہندوستان میں بھی عام ہے، وہاں مجبور و بے بس عورتیں کسی غیر مرد کے نطفہ کی نشوونما کیلئے اپنے رحم کرایہ پر دیتی ہیں‘ اس طرح انہیں خاصی رقم مل جاتی ہے۔ ہمارے رجحان کے مطابق یہ کاروبار ناجائز اور حرام ہے جس کی حسب ذیل وجوہات ہیں:
\ قرآن کریم کی صراحت کے مطابق بچے کی وہ ماں ہوتی ہے جو اسے جنم دے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے انہیں جنم دیا ہے۔‘‘ (المجادلۃ: ۲)
ایک دوسرے مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’اللہ تعالیٰ نے تمہیں‘ تمہاری ماؤں کے پیٹ سے بایں حالت نکالا کہ تم کچھ بھی نہ جانتے تھے۔‘‘ (النحل: ۷۸)
\ جب کہ صورت مسئولہ کے مطابق بچہ جنم دینے والی کے بیضۃ المنی سے وہ بچہ پیدا نہیں ہوا بلکہ مخلوط مادہ منویہ کو اس کے رحم میں رکھا گیا ہے، بچہ تو اسی عورت کا جزو ہے جس کا بیضۃ المنی اس کے معرض وجود میں آنے کا سبب ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ماں وہی عورت ہے جس کے بیضۃ المنی سے اس کی پیدائش ہوئی ہے، ایسے حالات میں پیدا ہونے والے بچے کی ماں کس عورت کو قرار دیا جائے گا؟ ہمارے نزدیک وہ عورت جس کے رحم میں شوہر کے علاوہ کسی دوسرے مرد کا مادہ منویہ پہنچایا گیا ہے وہ بدکار اور زانیہ عورت ہے، جس کی شریعت اجازت نہیں دیتی۔
\ پھر میاں بیوی کے مادہ منویہ کا حاصل کرنا اپنی جگہ پر قابل اعتراض ہے، اس کی بعض صورتیں شرعاً حرام ہیں‘ اس بنا پر ایک مسلمان کی یہ شان نہیں کہ وہ حصول اولاد کیلئے کسی بھی ناجائز کام کا سہارا لے بلکہ اسے صبر سے کام لینا چاہیے اور اللہ تعالیٰ سے آہ وزاری کے ساتھ دعا کرتا رہے، اس کے علاوہ کثرتِ استغفار کو اپنا معمول بنائے، اللہ تعالیٰ اسے اس عالم رنگ و بو میں اولاد سے محروم نہیں رکھے گا۔ قرآن کریم میں ایسے واضح اشارات ملتے ہیں کہ کثرت استغفار سے اللہ تعالیٰ اولاد نرینہ عطا کرتا ہے۔ (واللہ اعلم)

No comments:

Post a Comment

Pages