غصہ آنے پر معاف کرنے والا F10-20-05 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Friday, February 7, 2020

غصہ آنے پر معاف کرنے والا F10-20-05


غصہ آنے پر معاف کرنے والا

O ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ eنے فرمایا: ’’میں اس شخص کو جنت کی ضمانت دیتا ہوں جو غصہ آنے کے بعد معاف کردے جبکہ وہ اسے نافذ کرنے کی طاقت بھی رکھتا ہو‘‘۔ کیا یہ حدیث کے الفاظ ہیں؟ اگر ہیں تو حدیث کی کس کتاب میں ہیں؟
P مذکورہ الفاظ کے ساتھ کوئی حدیث میرے علم میں نہیں ہے البتہ سیدنا معاذ بن انسtسے مروی ایک حدیث کے الفاظ درج ذیل ہیں:
رسول اللہ eنے فرمایا کہ ’’جو شخص غصہ پی جائے جبکہ وہ اس پر عمل درآمد کی قدرت رکھتا ہو تو اللہ اسے قیامت کے دن برسرِ مخلوق بلائے گا اور اسے اختیار دے گا کہ جنت کی حورعین میں سے جسے چاہے منتخب کرلے۔‘‘ (جامع ترمذی، البروالصلہ: 2021،ابو داؤد،الادب:4777،ابن ماجہ،الزھد:4186)
واقعی اپنے سے کمزور پر غصہ آئے تو اسے قابو کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔لیکن اصل بہادری یہی ہے کہ ایسے موقع پر غصہ نکالنے کی بجائے معاف کردیا جائے،اللہ کے ہاں اس کی جزا یہ ہے کہ حوریں تو ہر جنتی کو ملیں گی لیکن غصہ پر قابو پا کر ظلم سے اجتناب کرنے والے کو اپنی پسند کی حوریں منتخب کرنے کا حق دیا جائے گا،قرآن کریم میں اہل ایمان کی اہم صفت یہ بیان کی گئی ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’اور غصہ کو پی جانے والے نیز لوگوں سے درگذر کرنے والے ،اللہ تعالیٰ ایسے نیکو کار لوگوں سے محبت کرتے ہیں۔‘‘(آل عمران:134)
رسول اللہeنے کچھ لوگوں کے متعلق ان کی حسنِ صفات کی وجہ سے جنت کی ضمانت دی ہے جیساکہ آپ کا ارشاد گرامی ہے:
’’میں اس شخص کے لئے جنت کی ایک جانب خوبصورت محل کی ضمانت دیتا ہوں جو جھگڑا چھوڑ دے اگرحق پرہو۔ اور جنت کے درمیان ایک محل کی، اس شخص کیلئے جو جھوٹ چھوڑ دے اگرچہ مزاح کے طور پر ہو نیز جنت کی اعلیٰ منازل میں ایک محل اس شخص کیلئے ہے جو اپنے اخلاق کو عمدہ بنا لے۔‘‘ (ابو داؤد،الادب:4800)
معلوم ہوتا ہے کہ مسائل کے لئے دونوں احادیث کے الفاظ خلط ملط ہوگئے ہیں،بہرحال ہمیں چاہیے کہ مذکورہ اچھی صفات کو اپنے اندر پیدا کریں تاکہ اللہ کے ہاں جنت کی نعمتوں کے حقدار ہوں۔ (واللہ اعلم)

No comments:

Post a Comment

Pages