حالت حمل میں دی گئی طلاق سے رجوع F10-20-04 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Friday, February 7, 2020

حالت حمل میں دی گئی طلاق سے رجوع F10-20-04


حالت حمل میں دی گئی طلاق سے رجوع

O ایک آدمی نے اپنی بیوی کو حالت حمل میں طلاق دی،اب طلاق کو تین ماہ گذر چکے ہیں،کیا اب وہ رجوع کرسکتاہے؟
P ہمارے ہاں مشہور ہے کہ حالت حمل میں دی گئی طلاق نافذ نہیں ہوتی، حالانکہ یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ قرآن کریم نے حاملہ عورت کی عدت وضع حمل بیان کی ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’اور حاملہ عورتوں کی عدت،ان کا حمل کو جنم دینا ہے۔(الطلاق:۶)
حاملہ عورت کو اگر طلاق مل جائے تو وہ حمل جنم دینے کے بعد آگے نکاح کرنے کی مجاز ہے کیونکہ وضع حمل سے اس کا نکاح ٹوٹ چکا ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی اس کی عدت بھی ختم ہوگئی ہے۔ وضع حمل خواہ طلاق کے دوسرے دن ہو جائے، اسے تین ماہ انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
اس آیت کریمہ کے ظاہر سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہر حاملہ عورت کی عدت یہی ہے جو آیت کریمہ میں بیان ہوگئی ہے، خواہ وہ مطلقہ ہو یا اس کا خاوند فوت ہوچکا ہو۔ صحیح احادیث سے بھی اس موقف کی تائید ہوتی ہے۔  بہرحال وہ عورت جو حمل سے ہے اگر اسے طلاق ہوجائے تو اس کی عدت وضع حمل ہے، وہ تین ماہ انتظار کرنے کی قطعاً پابند نہیں ہے۔ (واللہ اعلم)

No comments:

Post a Comment

Pages