میت کو غسل کیسے دیا جائے؟ F10-19-04 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Friday, February 7, 2020

میت کو غسل کیسے دیا جائے؟ F10-19-04


میت کو غسل کیسے دیا جائے؟

O میت کو غسل کیسے دیا جاتا ہے؟ کتاب و سنت کے مطابق وضاحت سے تحریر کریں کیونکہ ہم میں سے اکثر اس کا طریقہ نہیں جانتے۔
P میت کو غسل دینا ضروری ہے اور غسل کے لئے کسی ایسے شخص کا انتخاب کیا جائے جو با اعتماد اور مسائل غسل سے واقف ہو کیونکہ اسے غسل دینا ایک شرعی حکم ہے اور اس کا ایک خاص طریقہ ہے لہٰذا اسے وہی شخص صحیح طور پر  انجام دے سکتا ہے جو اس سلسلہ میں احکام شرعیہ سے واقف ہو۔ میت کو غسل دینے کے لئے حسب ذیل اقدام کرنا چاہییں:
1       میت کو غسل دینے کے لئے ایسی جگہ کا انتخاب کیا جائے جو لوگوں کی نگاہوں سے محفوظ ہو،مکان کی چھت کے نیچے یا کپڑے سے اوٹ کر لی جائے۔
2       اسے غسل کے تختہ پر اس طرح لٹایا جائے کہ پاؤں کی طرف سے کچھ نیچے ہو تاکہ جسم کا میل کچیل اور استعمال شدہ پانی پاؤں کی طرف سے نیچے بہہ جائے۔
3       غسل کے مقام پر غسل دینے والا اور اس کے معاون حضرات ہی موجود ہوں وہاں زائد افراد کی موجودگی درست نہیں ہے۔
4       غسل سے پہلے اگرنا خن یا زیر ناف بال بڑھے ہوں تو انہیں کاٹ دیا جائے،اسی طرح مونچھیں اگرحد سے زیادہ بڑھ گئی ہوں تو انہیں تراش دیا جائے۔
5       غسل دینے والا میت کا سر اس قدر اٹھائے کہ وہ بیٹھنے کی حالت کے قریب ہوجائے پھر اس کے پیٹ پر آہستہ آہستہ دبا کر ہاتھ پھیرے تاکہ نجاست نکل جائے پھر وہاں اچھی طرح پانی بہا دیا جائے تاکہ نجاست بہہ جائے۔
6       غسل دینے والا ہاتھوں پر کپڑے کی تھیلیاں چڑھا کر میت کو استنجا کرائے،اگر ڈھیلے استعمال کرنے کی ضرورت ہو تو انہیں بھی استعمال کرے۔
7       اس کے بعد غسل کی نیت کرتے ہوئے بسم اللہ پڑھے اور نماز کی طرح اسے وضو کرائے البتہ کلی کے لئے منہ میں اور اسی طرح ناک میں پانی ڈالنے کی ضرورت نہیں بلکہ گیلے ہاتھوں یا کپڑے سے میت کے دانت ،منہ اور ناک صاف کرلینا کافی ہے۔
8       میت کا سر اور داڑھی صابن وغیرہ سے اچھی طرح دھوئے اور انہیں صاف کرے پھر جسم کی دائیں جانب سے غسل کا آغاز اس طرح کرے کہ گردن،کندھا ،بازو اور ہاتھ دھوئے پھر دائیں پاؤںتک دھوئے پھر بائیں پہلو کو اٹھا کر اسکی پشت اور کمر کو دھوئے۔
9       بائیں جانب بھی اسی طرح دھوئی جائے جس طرح دائیں پہلو کو دھویا تھا،غسل دیتے وقت صابن کا استعمال کیا جائے اور اچھی طرح میل کچیل اتاری جائے۔
0       اگر صفائی ہوجائے تو ایک بار پانی کا بہانا کافی ہے البتہ بہتر اور مستحب ہے کہ تین تین بار پانی بہایا جائے ،اگر اس سے صفائی حاصل نہ ہوتو سات بار تک اعضاء دھوئے جاسکتے ہیں۔
!       آخری بار پانی بہاتے وقت اس میں کافور شامل کرلیا جائے کیونکہ وہ میت کے جسم کو نرم ،خوشبودار اور ٹھنڈا کردیتا ہے۔
@       اس کے بعد میت کے جسم کو کپڑے سے خشک کرلیا جائے اگر میت عورت ہے تو اسکے سر کے بالوں کی تین لٹیں بنا کر انہیں پیچھے کی طرف ڈال دیا جائے۔
#       اگر میت کو غسل دینے کے لئے پانی میسر نہ ہویا پانی کے استعمال سے جسم کے خراب ہونے کا اندیشہ ہوتو میت کو مٹی کے ساتھ تیمم کرادیا جائے جس کی صورت یہ ہے کہ مسح کروانے والا میت کے چہرے اور ہاتھوں پہ مسح کرے۔
$       بہتر ہے غسل سے فراغت کے بعد غسل دینے والا خود غسل کرلے ۔ممکن ہے کہ اس کے جسم سے نکلنے والی نجاست وغیرہ اسے لگ گئی ہو، اگر اسے اپنی طہارت کا یقین ہے تو غسل کرنا ضروری نہیں۔(واللہ اعلم)


No comments:

Post a Comment

Pages