قطب یا ابدال کیا ہیں؟! F10-18-01 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Friday, February 7, 2020

قطب یا ابدال کیا ہیں؟! F10-18-01


قطب یا ابدال کیا ہیں؟!

O قطب و ابدال کی شرعی طور پر کیا حیثیت ہے، کچھ اہل علم مشکوٰۃ المصابیح کے حوالے سے احادیث پیش کرتے ہیں، جن میں ابدال وغیرہ کا ذکر ہے‘ کتاب وسنت کی روشنی میں اس کے متعلق ہماری راہنمائی کریں۔
P قطب و ابدال کی کوئی حیثیت نہیں ہے، ہمارے ہاں صوفیاء حضرات نے اس طرح کی باتیں لوگوں میں مشہور کر رکھی ہیں کہ فلاں شخص ابدال میں سے تھا، مشکوٰۃ المصابیح کی درج ذیل حدیث کو بطور دلیل پیش کیا جاتا ہے:
’’حضرت شریح بن عبید کہتے ہیں کہ سیدنا علیt کے پاس اہل شام کا ذکر کیا گیا اور ان سے کہا گیا اے امیر المومنین! ان پر لعنت کریں تو آپ﷜ نے فرمایا: نہیں، میں نے رسول اللہe کو فرماتے سنا ہے کہ ابدال شام میں ہوں گے اور وہ چالیس افراد پر مشتمل ہوں گے۔ ان میں سے جب ایک آدمی فوت ہو جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرے کو لے آئے گا۔ ان کی وجہ سے بارش برستی ہے اور ان کے ذریعے دشمنوں سے بدلہ لیا جاتا ہے اور ان کی بناء پر اہل شام سے عذاب دور کیا جاتا ہے۔‘‘ (مشکوٰۃ، ذکر اہل شام حدیث نمبر: ۶۲۷۷)
اس روایت کو صاحب مشکوٰۃ نے مسند امام احمدؒکے حوالہ سے ذکر کیا ہے، چنانچہ امام احمدؒنے اس روایت کو مسند علی﷜ میں بیان کیا ہے۔ (مسند امام احمد ص ۱۱۲ ج ۱)
لیکن یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ اس کے راوی حضرت شریح بن عبید کی ملاقات حضرت علی﷜ سے ثابت نہیں ہے جیسا کہ حافظ احمد شاکر نے اس کے متعلق لکھا ہے۔ (مسند امام احمد ص ۱۷۱ ج ۲ تحقیق احمد شاکر)
اسی طرح امام ابوداؤد نے ایک روایت بیان کی ہے کہ ایک خلیفہ کی وفات کے وقت امت میں اختلاف رونما ہو گا تو اہل مدینہ سے ایک آدمی بھاگ کرمکہ مکرمہ آئے گا، لوگ اس کی مقام ابراہیم اور رکن یمانی کے درمیان بیعت کریں گے پھر جب لوگ یہ منظر دیکھیں گے تو اس کے پاس شام کے ابدال اور عراق کے گروہ آئیں گے اور اس کی بیعت کریں گے۔ (ابوداؤد، المہدی: ۴۲۸۵)
لیکن یہ روایت بھی قابل حجت نہیں ہے کیونکہ اس روایت میں ابوقتادہ مدلس راوی ہے جس نے صالح ابی الخلیل سے یمن کے صیغہ سے روایت بیان کی ہے پھر اس روایت میں صالح ابی الجلیل کے استاد ’’صاحب لہ‘‘ بھی مجہول ہے‘ ان علتوں کی وجہ سے یہ روایت بھی ناقابل اعتبار ہے۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ اس امت میں تیس ابدال ہوں گے۔ (مسند امام احمد ص ۳۲۲ ج ۵)
یہ روایت بھی ضعیف ہے کیونکہ اس میں عبدالواحد بن قیس راوی ضعیف ہے پھر سیدنا عبادہ﷜ سے اس کی ملاقات بھی ثابت نہیں ہے‘ علامہ ابن قیم لکھتے ہیں:
’’باطل روایات میں سے ابدال، اقطاب، اغواث، نقباء، نجباء اور ورثاء سے متعلق احادیث ہیں‘ اس طرح کی تمام روایات باطل ہیں اور رسول اللہe کی طرف باطل طور پر انہیں منسوب کیا گیا ہے۔‘‘ (المنار المنیف ص ۱۳۶)
بہرحال دنیا کا نظام بدلنے یا چلانے والے ابدال سراسر جھوٹ کا پلندا ہیں‘ رسول اللہe سے اس قسم کی کوئی روایت صحیح سند سے ثابت نہیں ہے۔ (واللہ اعلم)

No comments:

Post a Comment

Pages