نا بالغ بچے کے مال سے زکوٰۃ F10-17-05 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Friday, February 7, 2020

نا بالغ بچے کے مال سے زکوٰۃ F10-17-05


نا بالغ بچے کے مال سے زکوٰۃ

O ایک آدمی فوت ہوا، اس کا ایک بچہ بہت چھوٹا تھا، اور اسے وراثت میں ڈھیروں مال ملا ، کیا بچے کے مال میں سے زکوٰۃ ادا کرنا ضروری ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کی وضاحت کریں۔
P شرعی احکام اس انسان پر لاگو ہوتے ہیں جو عاقل، بالغ اور مسلمان ہو اور فرضیت زکوٰۃ کے لئے اس کا صاحب نصاب ہونا بھی ضروری ہے، بچے کے مال میں سے زکوٰۃ دینے یا نہ دینے کے متعلق فقہاء کا بہت اختلاف ہے لیکن ہمارے رجحان کے مطابق بچے کے مال میں سے زکوٰۃ ادا کرنا چاہیے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’ان کے اموال میں سے آپ زکوٰۃ وصول کریں اس کے ذریعے انہیں پاک کریں۔‘‘ (التوبہ)
اس آیت کریمہ میں بالغ اور غیر بالغ کی کوئی قید نہیں ہے نیز زکوٰۃ سے مقصود غرباء و مساکین کا فائدہ کرنا ہے لہٰذا ان کا حصہ نکا لنا ضروری ہے۔اس سلسلہ میں درج ذیل روایا ت بھی بطور تائید پیش کی جاسکتی ہیں اگرچہ سند کے اعتبار سے ان میں کچھ ضعف پایا جاتاہے۔رسول اللہﷺ نے فرمایا:
’’جو کسی یتیم کا کفیل ہو اسے چاہیے کہ وہ اسکے مال کو تجارت میں لگائے اسے یونہی نہ چھوڑے رکھے کہ اسے زکوٰۃ ختم کردے۔‘‘ (ترمذی، زکوٰۃ:641)
رسول اللہﷺ نے فرمایا:
’’یتیموں کے اموال کو تجارت میں لگاؤ، مبادا انہیں زکوٰۃ ختم کردے۔‘‘ (بیہقی)
یہ دونوں روایات اگر چہ ضعیف ہیں تاہم بطور تائید انہیں پیش کرنے میں چنداں حرج نہیں ہے ۔

No comments:

Post a Comment

Pages