مال کی عدم موجودگی میں خرید وفروخت F10-12-07 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Sunday, February 2, 2020

مال کی عدم موجودگی میں خرید وفروخت F10-12-07


مال کی عدم موجودگی میں خرید وفروخت

O آج کل ہماری منڈیوں میں یہ سودے عام ہوتے ہیں کہ ان کے پاس مال نہیں ہوتا، اس کے باوجود خرید و فروخت ہوتی رہتی ہے اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
P جو چیز انسان کی ملکیت میں نہ ہو اسے آگے فروخت کرنا جائز نہیں ہے، حضرت حکیم بن حزامt نے ایک دفعہ رسول اللہe سے عرض کیا تھا یا رسول اللہe! ایک شخص میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کسی چیز کا سودا کر لیتا ہے جبکہ وہ چیز اس وقت میرے پاس نہیں ہوتی، میں اسے بازار سے لا کر دے دیتا ہوں تو کیا ایسا کرنا جائز ہے؟؟ تو رسول اللہe نے فرمایا:
’’جو چیز تمہارے پاس نہیں تم اسے فروخت کرنے کے مجاز نہیں ہو۔‘‘ (مسند امام احمد ص ۴۰۲ ج ۳)
ایک دوسری روایت میں ہے رسول اللہe نے فرمایا:
’’جو چیز تیرے پاس نہیں ہے اس کا فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔‘‘ (مستدرک حاکم ص ۱۷ ج ۲)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ منڈیوں میں اس طرح کا جو کاروبار ہوتا ہے وہ جائز نہیں ہے۔ (واللہ اعلم)


No comments:

Post a Comment

Pages