بیوی کا خاوند کو زکوٰۃ دینا F10-12-06 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Sunday, February 2, 2020

بیوی کا خاوند کو زکوٰۃ دینا F10-12-06


بیوی کا خاوند کو زکوٰۃ دینا

O کیا بیوی اپنے ضرورت مند خاوند کو زکوٰۃ دے سکتی ہے؟ پھر اس نے خود ہی اس زکوٰۃ کو استعمال کرنا ہے، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ وضاحت فرمائیں۔
P زکوٰۃ کے متعلق ضابطہ یہ ہے کہ جس کی کفالت کسی کے ذمہ ہو اس پر زکوٰۃ صرف نہیں کی جا سکتی مثلاً باپ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کی کفالت کرے، ان میں زکوٰۃ صرف نہیں ہو سکے گی، اسی طرح خاوند پر بیوی کا نان و نفقہ واجب ہے‘ لہٰذا خاوند اپنی بیوی پر زکوٰۃ خرچ نہیں کر سکے گا البتہ بیوی پر خاوند کی کفالت ضروری نہیں ہے لہٰذا وہ اپنے ضرورت مند اور غریب خاوند کو زکوٰۃ دے سکتی ہے چنانچہ حضرت ابو سعید خدریt سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعودt کی بیوی نے جب اپنے زیورات کی زکوٰۃ دینے کا ارادہ کیا تو حضرت ابن مسعودt نے خود کو اور اپنے بچوں کو زکوٰۃ کا زیادہ حقدار پایا، اس پر ان کی بیوی نے رسول اللہe سے دریافت کیا تو آپe نے فرمایا: ’’ابن مسعودt نے ٹھیک کہا ہے، تیرا شوہر اور اس کی اولاد تیری زکوٰۃ کے زیادہ حقدار ہیں۔‘‘ (بخاری، الزکوٰۃ: ۱۴۶۲)
جب زکوٰۃ حقدار کو مل جاتی ہے تو اس کی حیثیت بدل جاتی ہے، زکوٰۃ لینے والا اسے جہاں چاہے صرف کر سکتا ہے، صورت مسئولہ میں بیوی اپنے خاوند کو زکوٰۃ دے سکتی ہے اگرچہ بیوی نے اسی گھر سے کھانا ہوتا ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ زکوٰۃ کی حیثیت تبدیل ہو چکی ہے، یہ خود پر زکوٰۃ صرف کرنا نہیں، لیکن یہ بات یاد رہے کہ محتاج ہونے کی صورت میں ہی بیوی اپنے خاوند کو زکوٰۃ دے سکے گی بصورت دیگر ایسا کرنا جائز نہیں ہوگا۔ (واللہ اعلم)


No comments:

Post a Comment

Pages