وقت سے پہلے زکوٰۃ کی تقسیم F10-12-05 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Sunday, February 2, 2020

وقت سے پہلے زکوٰۃ کی تقسیم F10-12-05


وقت سے پہلے زکوٰۃ کی تقسیم

O کیا زکوٰۃ کسی ہنگامی ضرورت کے پیش نظر وقت سے پہلے دی جا سکتی ہے؟ نیز کیا یہ ضروری ہے کہ وہ مقامی غرباء میں ہی تقسیم کی جائے؟ کتاب و سنت کے مطابق جواب دیا جائے۔
P اگر کوئی ضرورت مند آ جائے تو اسے وقت سے پہلے زکوٰۃ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے، چنانچہ حضرت عباسw نے رسول اللہe سے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا زکوٰۃ اپنے مقررہ وقت سے پہلے ادا ہو سکتی ہے؟ تو آپ نے انہیں اجازت دے دی۔ (مسند امام احمد ص ۱۰۴ ج ۱)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زکوٰۃ وقت سے پہلے دینے میں چنداں حرج نہیں ہے بشرطیکہ کوئی ہنگامی ضرورت سامنے آ جائے مثلاً کوئی غریب یا نادار ہے‘ اسے علاج کرانے کیلئے رقم کی ضرورت ہے تو اسے زکوٰۃ کی رقم سے دیا جا سکتا ہے اگرچہ اس وقت زکوٰۃ فرض نہ ہو‘ اسی طرح بہتر ہے کہ مقامی فقراء اور ضرورت مندوں پر زکوٰۃ صرف کی جائے جیسا کہ رسول اللہe نے حضرت معاذ بن جبلt کو حکم دیا تھا کہ زکوٰۃ اہل یمن کے اغنیاء سے وصول کی جائے اور ان کے ضرورت مندوں اور محتاجوں میں تقسیم کی جائے۔ (بخاری، الزکوٰۃ: ۱۴۵۸)
اسی طرح ایک صحابی حضرت ابو جحیفہt بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہe کی طرف سے ہمارے پاس ایک زکوٰۃ وصول کرنے والا شخص آیا تو اس نے ہمارے اغنیاء سے زکوٰۃ وصول کر کے ہمارے فقراء میں تقسیم کر دی۔ (ترمذی، الزکوٰۃ: ۶۴۹)
اس سے معلوم ہوا کہ زکوٰۃ کے مقامی فقراء اور ضرورت مند زیادہ حقدار ہیں لیکن ضرورت اور مصلحت کے پیش نظر کسی دوسرے شہر میں بھی زکوٰۃ بھیجی جا سکتی ہے، جیسا کہ امام بخاریؒ نے اپنی صحیح میں ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے:
’’مالداروں سے زکوٰۃ وصول کر کے فقراء پر تقسیم کر دی جائے خواہ وہ کہیں بھی ہوں۔‘‘
بہرحال ہمارے رجحان کے مطابق بہتر ہے کہ زکوٰۃ مقامی طور پر صرف کی جائے اگر مقامی طور پر ضرورت نہ ہو یا مصلحت کا تقاضا دوسرے شہر میں خرچ کرنے کا ہو تو وہاں زکوٰۃ صرف کرنے میں ان شاء اللہ کوئی حرج نہیں ہو گی۔ البتہ امام بخاریؒ کا موقف یہ ہے کہ زکوٰۃ وصول کر کے جہاں بھی تقسیم کر دی جائے تو یہ فریضہ ادا ہو جائے گا اور اس میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ (واللہ اعلم)


No comments:

Post a Comment

Pages